حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 37 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 37

حیات احمد ۳۷ جلد سوم حضرت سید عزیز الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ جو ہز ہائی نس مہاراجہ کپورتھلہ کے معتمدین میں سے تھے وہ حکومت میں حصہ نہ رکھتے تھے بلکہ ان کے پرسنل سٹاف میں تھے لیکن ان کی نیکی و ایمانداری کا ہر چھوٹا بڑا قائل تھا۔مہاراجہ کے محلات میں تو ایک عفیف انسان تھے اور ان کو بعض اوقات بڑے بڑے امتحانات پیش آئے مگر یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ حضرت یوسف کی طرح عفیف رہے۔یہ ذکر ضمنا آ گیا اور میں نے چاہا کہ پڑھنے والے اس عہد قدیم کے صحابہ کے رنگ کو اختیار کریں۔غرض منصوری کی جماعت کے ایک فرد نے اس کی تحریک کی اور پھر یہ تحریک اپنی ابتدائی منزلوں سے نکل کر ایک مستقل عمارت کی صورت میں قائم ہوگئی۔دار البیعت کی تاریخی حیثیت میں اگر چہ خود اس مقام اور کوچہ سے واقف ہی نہیں بلکہ ایک عارف کی حیثیت رکھتا ہوں اس لئے کہ اسی محلہ میں زندگی کے کئی سال گزارے اور اس مکان اور اس کے رہنے والوں سے ایسے تعلقات رہے کہ گویا ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں حضرت حکیم الامت ہمیشہ جب میری رفیق حیات ان کے گھر میں جاتی تو حضرت اماں جی (سیدہ صغری بیگم) کو فرماتے۔صغریٰ یہ تو تمہارے ہمسائے ہیں ان کا خاص لحاظ رکھا کرو۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیدہ صغریٰ بیگم صاحبہ نے ہمیشہ خاص التفات رکھیں۔میں جب کبھی باہر سے قادیان گیا وہ ضرور تشریف لا کر احوال پرسی ہی نہ فرماتیں بلکہ کچھ تحائف از قسم ،بادام ، مصری، یا ثمرات لے کر آتیں (اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے )۔یہ بھی ایک ضمنی بات آ گئی اور میں نے نہ چاہا کہ اپنے محسنوں کا ذکر نہ کروں حضرت پیر افتخار احمد صاحب اور حضرت پیر منظور محمد صاحب رضی اللہ عنہما بھی خاص شفقت کا اظہار فرماتے اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے۔