حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 36 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 36

حیات احمد ۳۶ { جلد سوم دارالبیعت اور یوم البیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب لودھانہ جایا کرتے تو علی العموم آپ محلہ اقبال گنج میں ٹھہرا کرتے تھے اور سب سے پہلی مرتبہ جب گئے تھے تو ڈپٹی امیر علی صاحب کے مکان واقع محلہ صوفیاں میں ٹھہرا کرتے تھے مگر بیعت کے لئے آپ نے حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ کے مکان کو پسند کیا اور اسی محلہ میں قیام فرمایا۔بیعت کی تاریخ آپ نے مقرر کر دی تھی اور اس تاریخ سے پہلے آپ نے ایک مختصر سفر ہوشیار پور کا کیا۔ان اعلانات سے جو آپ نے بیعت کے لئے دیئے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس نظام بیعت کو قائم کیا۔اور اس سے مقصد ایک ایسی جماعت کا قیام تھا جو متقین مخلصین کی عملی جماعت ہو اور جو احیائے اسلام کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کر سکے۔بیعت کی شرائط کے علاوہ بیعت کرنے والوں پر لازم کیا کہ وہ استخارہ کریں جو ایک مسنون امر ہے۔وہ حجرہ جس میں آپ نے بیعت لی بعد میں دار البیعت کے نام سے موسوم ہوا اور اولاد حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ نے وہ مکان سلسلہ کو دیدیا۔جماعت احمدیہ کے تبلیغی کاموں کا اور نظام جماعت کا مرکز اسے بنا دیا گیا۔اور ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی۔انجمن احمدیہ کا دفتر بھی وہی تھا۔۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد سر دست وہ جماعت کے قبضہ میں نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم کو امید ہے کہ وہ واپس مل جائے گا وَلَوْ كَانَ بَعْدَ حِيْنِ۔دار البیعت کی تعمیر کی تحریک اوّلاً حضرت سید حافظ عبدالعزیز صاحب منصوری والے کے حصہ میں آئی۔ان کے لودھیانہ سے تعلقات بھی تھے وہ بڑے مخلص اور عملی انسان تھے منصوری میں ان کی بہت بڑی فرم تھی ان کا خاندان ایک دیندار خاندان تھا۔منصوری میں ان کی فرم احمدیت کے لئے ایک دار التبلیغ تھی۔آنے والے احمدیوں کے لئے وہ منزل گاہ یا مہمان خانہ بھی تھی۔مسجد بھی تھی۔