حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 35 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 35

حیات احمد ۳۵ جلد سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ میں بیعت کا اعلان کیا تو بیعت لینے سے پہلے آپ شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کے بلانے پر اس کے لڑکے کی شادی پر ہوشیار پور تشریف لے گئے۔میں اور میر عباس علی اور شیخ حامد علی ساتھ تھے۔راستہ میں یکہ پر حضور نے ہم کو اپنے اُس چلہ کا حال سنایا جس میں آپ نے برابر چھ ماہ تک روزے رکھے تھے۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں نے ایک چھینکا رکھا ہوا تھا اسے میں اپنے چوبارے سے نیچے لٹکا دیتا تھا تو اس میں میری روٹی رکھ دی جاتی تھی پھر اسے میں اوپر کھینچ لیتا تھا۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ شیخ مہر علی نے یہ انتظام کیا تھا کہ دعوت میں کھانے کے وقت رؤسا کے واسطے الگ کمرہ تھا۔اور ان کے ساتھیوں اور خدام کے واسطے الگ تھا مگر حضرت صاحب کا یہ قاعدہ تھا کہ اپنے ساتھ والوں کو ہمیشہ اپنے ساتھ بٹھایا کرتے تھے چنانچہ اس موقعہ پر بھی آپ ہم تینوں کو اپنے داخل ہونے سے پہلے کمرہ میں داخل کرتے تھے اور پھر خود داخل ہوتے تھے۔اور اپنے دائیں بائیں ہم کو بٹھاتے تھے۔انہی دنوں ہوشیار پور میں مولوی محمود شاہ چھچھ ہزاروی کا وعظ تھا۔جو نہایت مشہور اور نامور اور مقبول واعظ تھا۔حضرت صاحب نے میرے ہاتھ بیعت کا اشتہار دے کر انہیں کہلا بھیجا کہ آپ اپنے لیکچر کے وقت کسی مناسب موقعہ پر میرا یہ اشتہار بیعت پڑھ کر سنا دیں اور میں خود بھی آپ کے لیکچر میں آؤں گا۔اس نے وعدہ کر لیا۔چنانچہ حضرت صاحب اس کے وعظ میں تشریف لے گئے لیکن اس نے وعدہ خلافی کی اور حضور کا اشتہار نہ سنایا بلکہ جس وقت لوگ منتشر ہونے لگے۔اس وقت سنایا مگر اکثر لوگ منتشر ہو گئے تھے۔حضرت صاحب کو اس پر بہت رنج ہوا فرمایا ہم اس کے وعدہ کے خیال سے ہی اس کے لیکچر میں آئے تھے کہ ہماری تبلیغ ہو گی ورنہ ہمیں کیا ضرورت تھی۔اس نے وعدہ خلافی کی ہے میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ پھر تھوڑے عرصہ کے اندر ہی وہ مولوی چوری کے الزام کے نیچے آ کر سخت ذلیل ہوا۔یہاں تک میں نے بیعت کے اعلان سے لے کر یوم البیعت سے پہلے تک حالات بیان کئے ہیں اس کے بعد میں دارالبیعت اور یوم البیعت کے حالات بیان کرتا ہوں۔