حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 375
حیات احمد ۳۷۵ جلد سوم دستاویزی ثبوت میں متعدد خطوط حضرت کی خدمت میں آئے اور بعض خطوط کو میں نے الحکم میں شائع کر دیا تھا تاہم بطور نمونہ یہاں دوخطوں کو درج کیا جاتا ہے۔پہلا خط حضرت حافظ محمد عظیم صاحب رضی اللہ عنہ کا ہے یہ پٹیالہ میں تعلیم پا کر وہیں مقیم ہو گئے تھے۔دراصل ضلع ہوشیار پور کے موضع بنگہ تھا نہ بلا چور کے باشندے تھے۔نہایت ذی علم اور فارسی عربی کی کافی دستگاہ رکھتے تھے۔اگر میں غلطی نہیں کرتا تو انہوں نے حضرت مولوی عبداللہ خاں صاحب سے استفادہ کیا تھا۔چونکہ عرصہ سے پٹیالہ ہی میں رہتے تھے اور اپنے علم وفضل کی بناء پر زمرہ علمائے بیٹیالہ میں سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے قادیان آ کر شادی بھی کی تھی مگر رشتہ نکاح بوجوہات قائم نہ رہا ضلع ہو گیا۔ضلع ہوشیار پور سے۔دو مکشوف البصر بزرگ سلسلہ میں داخل ہوئے ایک یہ اور دوسرے حافظ ابراہیم صاحب یہ دونوں بزرگ اپنی نیکی اور تقویٰ کے لحاظ واجب الاحترام تھے بہر حال مولوی محمد حسین صاحب کے فتویٰ کفر کی حقیقت اس سے بقیہ حاشیہ۔اور اب تک مجھے معلوم نہیں ہوا کہ اُس صوفی پردہ نشین کو وکیلوں کی کیوں ضرورت پڑی۔کیا وہ خودستر میں ہے یا دیوانہ یا نابالغ بجز اس کے کیا سمجھنا چاہئے کہ اگر فرض کے طور پر کوئی صوفی ہی ہے تو کوئی فضول اور مفتری آدمی ہے جو بوجہ اپنی مفلسی اور بے سرمائینگی کے اپنی شکل دکھانی نہیں چاہتا۔میں متعجب ہوں، یہ سیدھی بات آپ کو سمجھ نہیں آتی۔یہ کس قسم کی بات ہے کہ صوفی تو عورتوں کی طرح چھپتا پھرے اور مرد میدان بن کر میرے مقابلہ پر نہ آوے اور الزام اس عاجز پر ہو کہ کیوں صوفی کے مقابل پر کھڑے نہیں ہوتے۔صاحب من ! میں تو اللہ جل شانہ کے فضل سے کھڑا ہوں۔اور خدا تعالیٰ کے یقین دلانے سے قطعی طور پر جانتا ہوں کہ اگر کوئی صوفی وغیرہ میرے مقابل پر آئے گا تو خدا تعالیٰ اس کو سخت ذلیل کرے گا۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ اُس واحد لا شریک عزاسمہ نے مجھ کو خبر دی ہے جس پر مجھ کو بھروسہ ہے۔ایسے صوفیوں کی میں کس سے مثال دوں وہ ان عورتوں کی مانند ہیں جو گھر کے دروازے بند کر کے بیٹھیں اور پھر کہیں کہ ہم نے مردوں پر فتح پائی۔ہمارے مقابل پر کوئی نہیں آیا۔میں پھر مکر رکہتا ہوں کہ بٹالوی کی تحریر سے مجھ کو سخت شبہ ہے اور اس کے ہر روزہ افتراء پر خیال کر کے میرے دل میں یہی جما ہوا ہے کہ یہ صوفی کا تذکرہ محض فرضی طور پر اُس نے اپنی اشاعۃ السنه میں لکھ دیا ہے ور نہ مقابل کا دم مارنا اور پردہ میں رہنا کیا راستباز آدمیوں کا کام ہے۔اس صوفی کو چاہئے کہ