حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 374 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 374

حیات احمد ۳۷۴ جلد سوم آیا ہے ورنہ آپ لوگوں نے تو ڈائن کی طرح اُمت محمدیہ کے تمام اولیاء کرام کو کھا جانا چاہا تھا اور اپنی بدزبانی سے نہ پہلوں کو چھوڑا نہ پچھلوں کو اور اپنے ہاتھ سے ان نشانیوں کو پوری کر رہے ہیں جو آپ ہی بتلا رہے ہیں۔تعجب کہ یہ لوگ آپس میں بھی تو نیک ظن نہیں رکھتے۔تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ موحدین کی بے دینی پر مدار الحق میں شاید تین سو کے قریب مہر لگی تھی۔پھر جبکہ تکفیر ایسی سستی ہے تو پھر ان کی تکفیروں سے کوئی کیوں ڈرے۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ میاں نذیر حسین اور شیخ بٹالوی نے اس تکفیر میں جعل سازی سے بہت کام لیا ہے۔اور طرح طرح کے افترا کر کے اپنی عاقبت درست کر لی ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۲۷۲،۲۷۱ طبع بار دوم ) (نوٹ) اس فتویٰ تکفیر کے متعلق جو کچھ مندرجہ بالا اعلان میں شائع کیا گیا ہے۔اس کے جواب جواب الجواب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى بعد ہذا بخدمت میر عباس علی صاحب واضح ہو کہ آپ کا جواب الجواب مجھ کو ملا جس کے پڑھنے سے بہت ہی افسوس ہوا۔آپ مجھ کو لکھتے ہیں کہ صوفی صاحب کے مقابلہ پر مردِ میدان بنیں اگر سجے ہو تو حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو۔آپ کی اس تحریر پر مجھ کو رونا آتا ہے۔صاحب میں نے کب اور کس وقت حیلہ بہانہ کیا۔کیا آپ کے نزدیک وہ صوفی صاحب جن کے نام کا بھی اب تک کچھ پتہ و نشان نہیں۔میدان میں کھڑے ہیں۔میں نے آپ کو ایک صاف اور سیدھی بات لکھی تھی کہ جب تک کوئی مقابل پر نہ آوے اپنا نام نہ بتاوے۔اپنا اشتہار شائع نہ کرے کس سے مقابلہ کیا جائے۔میں کیوں کر اور کن وجوہ سے اس بات پر تسلی پذیر ہو جاؤں کہ آپ یا شیخ بٹالوی اس صوفی گمنام کی طرف سے وکیل بن گئے ہیں۔کوئی وکالت نامہ نہ آپ نے پیش کیا اور نہ بٹالوی نے۔