حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 34
حیات احمد ۳۴ جلد سوم درجہ کے ہوں اور ان سے بے تکلف مخالطت اور محبت کریں۔اور اللہ جل شانہ سے چاہیں کہ اپنے فضل و کرم سے ان سے آپ کی صافی محبت و تعشق پیدا کر دے کہ یہ سب امور الله جَلَّ شَانُهُ کے اختیار میں ہیں۔اب اس نکاح سے گویا آپ کی نئی زندگی شروع ہوئی ہے اور چونکہ انسان ہمیشہ کے لئے دنیا میں نہیں آیا اس لئے نسلی برکتوں کے ظہور کیلئے اب اسی پیوند پر امیدیں ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کے لئے یہ بہت مبارک کرے۔میں نے اس محلہ میں خاص صاحب اسرار و واقف لوگوں سے اس لڑکی کی بہت تعریف سنی ہے کہ بالطبع صالحہ عفیفہ وجامع فضائل محمودہ ہے۔اس کی تربیت و تعلیم کے لئے بھی توجہ رکھیں۔اور اب پڑھایا کریں کہ اس کی استعداد میں نہایت عمدہ معلوم ہوتی ہیں اور اللہ جل شانہ کا نہایت فضل اور احسان ہے کہ جو یہ جوڑ بہم پہنچایا ورنہ اس قحط الرجال میں ایسا اتفاق محالات کی طرح ہے۔خط سے کچھ معلوم نہیں ہوا کہ ۲۰ مارچ ۱۸۸۹ء تک رخصت ملے گی یا نہیں۔اگر بجائے ہیں کے بائیں کو آپ تشریف لاویں یعنی یکشنبہ میں اس جگہ ٹھہریں تو با بومحمد صاحب بھی آپ سے ملاقات کریں گے۔یہ عاجز ارادہ رکھتا ہے کہ ۱۵ / مارچ ۱۸۸۹ء کو دو تین روز کے لئے ہوشیار پور جاوے۔اور ۱۹؍ مارچ یا ۲۰ / مارچ کو بہر حال انشاء اللہ واپس آ جاؤں گا۔والسلام۔صاحبزادہ افتخار احمد اور ان کے سب متعلقین بخیر و عافیت ہیں۔کل سات روپیہ اور کچھ پارچہ میرے لئے دیئے تھے جو ان کے اصرار سے لئے گئے۔خاکسار غلام احمد نوٹ۔اس خط پر کوئی تاریخ نہیں۔مگر مضمون خط سے مارچ ۱۸۸۹ء کے پہلے ہفتہ کا معلوم ہوتا ہے۔(عرفانی) مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحه ۶۶ تا ۶۸۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۸۲ ۸۳ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اگر چہ یہ خود حضرت اقدس کی تحریر ہے تا ہم تاریخ سلسلہ کے لئے میں حضرت مولوی عبداللہ سنوری رضی اللہ عنہ کا بیان بھی درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب