حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 365 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 365

حیات احمد جیسے کپورتھلہ کا۔۳۶۵ جلد سوم قیام جالندھر کے ایام کے واقعات میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے (الحکم میں جو روایات اپنی زندگی میں شائع کردیں) دو عجیب واقعات بیان کئے ہیں ان کو یہاں الحکم مورخہ ۲۱ اپریل ۱۹۳۲ء سے درج کرتا ہوں۔۔جالندھر کے مقام پر ایک باپ اور بیٹا جو دونوں بیعت کئے ہوئے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے باپ نے اپنے بیٹے کے متعلق شکایت کی کہ یہ میری خبر نہیں لیتا۔حضرت نے باپ کی اس شکایت کو ایسا محسوس کیا کہ فوراً بیٹے کی طرف مخاطب ہو کر قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حَبِّهِ مِسْكِيْنًا وَ يَتِيمَا وَ آسِيرًا۔اور فرمایا کہ یہی سمجھ کر خدمت کر دیا کرو۔حضرت نے کچھ ایسے رنگ میں فرمایا کہ اس کی چیخ نکل گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور عرض کی کہ آئندہ پوری تنخواہ خدمت میں پیش کر دیا کروں گا۔پھر اس میں سے جو چاہیں مجھے دے دیں۔نوٹ۔یہ تھا حضور کی تربیت واصلاح کا طریق جو کچھ فرماتے تھے وہ دل سے نکلتا تھا اور مؤثر ہوتا تھا سوائے ان ظالم طبع انسانوں کے جن کے قلوب پر مہر ہو۔والدین کی اطاعت اور خدمت کے لئے بار بار آپ نصیحت فرمایا کرتے تھے اور اکثر اس حدیث کی طرف بھی اشارہ فرماتے کہ وہ شخص بڑا ہی بد قسمت ہے جس کے ماں باپ زندہ ہوں۔اور اس کے گناہ معاف نہ ہوں۔“۔جالندھر کے مقام پر حضرت اقدس کی خدمت میں نواح جالندھر کا ایک ساہوکار آیا اور اس نے نہایت ادب سے عرض کیا کہ آپ کو دیکھ کر میرے دل سے بُت پرستی کا خیال جاتا رہا۔میری درخواست ہے کہ میری نجات کا کچھ سامان ہو جائے۔اور عرض کیا کہ میری دعوت قبول فرمائی جائے اور حضور نے اس کی دعوت قبول کی اور اس نے بستی بابا خیل میں ایک معزز مسلمان کے گھر میں دعوت کا انتظام کیا حضور پیدل چل کر وہاں تشریف لے گئے۔آپ کے خدام بھی آپ لى الدهر : 9