حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 364
حیات احمد ۳۶۴ جلد سوم ہے حضرت سیالکوٹ سے کپورتھلہ ایفائے عہد کے لئے آئے تھے۔ورنہ اس سفر میں آپ کا منزل مقصودلودھانہ تھا۔چنانچہ جالندھر میں بھی قریباً دو ہفتہ قیام کر کے آپ لودہا نہ تشریف لے گئے اور لودھانہ سے قادیان آئے جیسا کہ حضرت اقدس کے ایک مکتوب بنام حضرت چودھری رستم علی صاحب سے ظاہر ہے آپ لکھتے ہیں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مکرمی و محی اخویم سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالَى السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ یہ عاجز قادیان میں آ گیا ہے۔اور ایک رسالہ دافع الشبهات تالیف کرنے کی فکر میں ہے براہ مہربانی وہ کتاب جو آپ نے مولوی غلام حسین صاحب سے لی ہے یعنی تَأْوِيلُ الْأَحَادِیث شاہ ولی اللہ صاحب ضرور مجھ کو بھیج دیں۔ہرگز تو قف نہ فرما دیں کہ اس کا دیکھنا ضروری ہے۔والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ۱۹ رمئی ۱۸۹۲ء مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۷ ۵۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) نوٹ۔دافع الشبهات کتاب بعد میں آئینہ کمالات اسلام (دافع الوساوس ) کے نام سے شائع ہوئی گویا اس وقت آپ نے اس کتاب کی تالیف کا ارادہ فرمایا ( عرفانی الکبیر ) مولوی محمد حسین صاحب کا منشاء یہ تھا کہ گویا حضرت اس سے مباحثہ کرنے میں گریز کرتے ہیں وہ مباحثہ تو ۱۸۹۱ ء میں کر چکا تھا اور اُس نے اُس وقت اور بعد کے واقعات سے ثابت کر دیا کہ وہ اس قابل نہیں کہ اُس سے مباحثہ کر کے وقت ضائع کیا جاوے اور اب آپ نے آسمانی فیصلہ ہی کو معیار صداقت قائم کر دیا تھا۔چونکہ مولوی محمد حسین صاحب شکست کھا کر اس کی ندامت دور کرنا چاہتے تھے اس لئے ایسی غلط باتیں کرتے رہتے۔بہر حال حضرت اقدس جالندھر میں قیام فرما ہوئے۔جالندھر میں بھی آپ دو تین مرتبہ تشریف لے گئے۔اور جالندھر کا یہ سفر آخری تھا