حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 340
حیات احمد ۳۴۰ جلد سوم ”ہم نے مسیح کی بردباری کی بابت بہت کچھ پڑھا ہے اور سنا ہے مگر یہ کمال تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔“ انہوں نے اس سلسلہ میں بہت کچھ کہا اور چونکہ ان کے دفتر میں ہماری جماعت کے اکثر احباب تھے اور وہ ان سب کا احترام کرتے تھے اور حضرت منشی نبی بخش صاحب پر تو ان کی خاص نظر عنایت تھی وہ اکثر اس واقعہ کو بیان کرتے اور حضرت کے کمال ضبط کی تعریف کرتے۔لاہور کےاکثر مبایعین اسی مکان میں لاہور کے اکثر دوستوں نے بیعت کی اور میں نے بھی تجدید بیعت کی حضرت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ۔حضرت مرزا ایوب بیگ۔حضرت عبدالعزیز مغل اور ان کے خاندان کے اکثر افراد نے اسی موقعہ پر بیعت کی تھی جن کے نام اُس رجسٹر میں موجود ہیں جو حضرت کے اپنے قلم کا زیادہ تر لکھا ہوا ہے۔جس کی ایک نقل میرے پاس بھی ہے۔مہدی لاہور کا حملہ ان ایام میں آپ نماز میں حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب کی مسجد میں (جو منگے منڈی میں حضرت منشی چراغ دین کے مکانات کے سامنے تھی ) پڑھا کرتے تھے ایک روز آپ ظہر یا عصر مجھے محفوظ نہیں مگر ان نمازوں میں سے ایک نماز تھی ) کی نماز پڑھ کر نکلے مسجد سے باہر نکل کر مکان کو جا رہے تھے کہ پیچھے سے ایک شخص نے (جو اپنے آپ کو مہدی کہتا تھا اور لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ مَهْدِيٌّ رَسُوْلُ اللہ کا کلمہ پڑھتا تھا ) آپ کی کمر میں ہاتھ ڈالا مگر وہ نہ تو آپ کو اٹھا سکا اور نہ گرا سکا حضرت سید امیر علی شاہ صاحب سیالکوٹی نے اُس کو پکڑ کر الگ کر دیا اور وہ اُس کو مارنا چاہتے تھے حضرت نے مسکرا کر کہہ دیا کہ اسے کچھ مت کہو وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ اس کا عہدہ میں نے سنبھال لیا ہے اور برابر مکان تک تھوڑی دیر کے بعد مڑ کر دیکھتے کہ کوئی اُسے دکھ نہ دے۔وہ ساتھ ساتھ ہی