حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 339
حیات احمد ۳۳۹ جلد سوم بھائی کے لئے پسند کرتا ہے آپ کو بھی اس حق کی دعوت دیتا ہوں۔وَمَا عَلَيْنَا 66 إِلَّا الْبَلَاغ _ اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ “ یہ کہہ کر میز پر سے اتر آئے اور جلسہ برخاست ہو گیا۔تبدیل مکان اب تک حضرت کا قیام چونے منڈی میں منشی میراں بخش مرحوم کی کوٹھی میں تھا۔لیکن وہ جگہ کافی نہ رہی تو آپ محبوب رائیوں کی ایک وسیع اور فراخ کوٹھی میں منتقل ہو گئے۔اس جگہ لوگوں کا دن بھر مختلف اوقات میں ہجوم رہتا تھا۔اگر چہ ایسے لوگ بھی آتے تھے جو مخالفانہ رنگ رکھتے تھے۔مگر اس قسم کے حرکات جو دہلی میں ہوئے نہیں ہوتے تھے البتہ ایک دن ایسا واقعہ ہوا جس کی تفصیل میں سیرت میں لکھ چکا ہوں۔ایک واقعہ حضرت مجلس میں تشریف فرما تھا اور منشی شمس الدین صاحب مرحوم جنرل سیکرٹری کو آپ نے آسمانی فیصلہ دیا کہ اسے پڑھ کر حاضرین کو سنائیں اس وقت کا پورا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے ہے اس مجلس میں بابو موز مدار جو برہم سماج کے ان دنوں منسٹر تھے اور ایگزامنر آفس میں بڑے آفیسر تھے اور اپنی نیکی اور خوش اخلاقی کے لئے معروف تھے۔سوشیل کا موں میں آگے آگے رہتے وہ اس جلسہ میں موجود تھے ایک شخص جو مسلمان کہلاتا تھا آیا اور اس نے اپنے غیظ و غضب کا اظہار نہایت ناسزا وار الفاظ اور گالیوں کی صورت میں کیا۔حضرت اپنی پگڑی کا شملہ منہ پر رکھے سنتے رہے اور بالکل خاموش تھے۔آپ کے چہرہ پر کسی قسم کی کوئی علامت نفرت یا غصہ کی ظاہر نہیں ہوئی یوں معلوم ہوتا تھا گویا آپ کچھ سنتے ہی نہیں آخر وہ تھک کر آپ ہی خاموش ہو گیا اور چلتا بنا۔حاضرین میں سے اکثر کو غصہ آتا تھا مگر کسی کو یہ جرات حضرت کے ادب کی وجہ سے تو نہ تھی کہ اسے روکتا۔جب وہ چلا گیا تو با بوموز مدار نے کہا۔