حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 325 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 325

حیات احمد ۳۲۵ جلد سوم الْكَرَامَاتُ ثَمْرَةُ الْمُجَاهِدَاتِ علالت طبع بہت حرج انداز ہے۔اگر یہ مقابلہ صحت اور طاقت دماغی کے ایام میں ہوتا تو یقین تھا کہ تھوڑے دن کافی ہوتے۔مگر اب طبیعت متحمل شدائد مجاہدات نہیں رکھتی اور ادنیٰ درجہ کی محنت اور خوض اور توجہ سے جلد بگڑ جاتی ہے۔اگر ڈاکٹر صاحب کو طلب حق ہوگی تو وہ تین باتیں بآسانی قبول کریں گے۔ڈاکٹر جگن ناتھ جموں سے مقابلہ (۱) اوّل یہ کہ میعاد توجہ یعنی وہ میعاد جس کے اندر کوئی امر خارق عادت پیش ہونے والا پیش از وقوع بتلایا جاوے اس کے موافق ہو۔جو خدا تعالیٰ ظاہر کرے (۲) دوم جو امر ظاہر کیا جائے یعنی منجانب اللہ بتلایا جاوے اس کی اس میعاد کی انتظار کریں۔جو من جانب اللہ مقرر ہو۔ہاں میعاد ایسی چاہئے جو معاشرت کے عام معاملات میں قبول کے لائق سمجھی گئی ہو اور عام طور پر لوگ اپنے کاموں میں ایسی میعادوں کے انتظار کے عادی ہوں اور اپنے مالی معاملات کو ان میعادوں پر چھوڑتے ہیں یا اپنے دوسرے کا روبار ان میعادوں کے لحاظ سے کرتے ہوں۔اس سے زیادہ نہ ہو۔(۳) امر خارق عادت پر کوئی ناجائز اور بے سود شرطیں نہ لگائیں جائیں بلکہ خارق عادت اسی طور سے سمجھا جائے جو انسانی طاقتیں اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہوں مگر یہ سب اس وقت سے ہو گا کہ جب پہلے اجازتِ الہی اس بارے میں ہو جاوے۔آپ کی ملاقات کے لئے دل بہت جوش رکھتا ہے اور آپ نے فرمایا تھا کہ ہم آنے کے لئے تیار ہیں مگر آپ تشریف لاویں تو یہ سب باتیں زبانی مفصل طور پر بیان کی جائیں گی۔عبد الرحمن لڑکا بھی آپ کے انتظار میں مدت سے بیٹھا ہے۔مولوی عبدالکریم صاحب منتظر ہیں۔آپ ضرور مطلع فرما دیں کہ آپ کب تشریف لاویں گے۔والسلام خاکسار غلام احمد ۳۱ مارچ ۱۸۹۱ء ) مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۱۱۶، ۱۱۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)