حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 298
حیات احمد ۲۹۸ جلد سوم اشتہار واجب الاظہار جس میں مولوی محمد اسحق صاحب کو حضرت مسیح ابن مریم کی حیات و وفات کے بارے میں بحث کے لئے دعوت کی گئی ہے واضح ہو کہ کل ۳۰ / اکتوبر ۱۸۹۱ء کو مولوی محمد اسحق صاحب اس عاجز کے مکان (فرودگاه ) میں تشریف لائے اور ایک جلسہ عام میں حضرت مسیح ابن مریم کی وفات کے بارہ میں مولوی صاحب موصوف نے گفتگو کی اور یہ بھی فرمایا کہ اس قدر تو ہم بھی مانتے ہیں کہ بعض احادیث میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم چند گھنٹے کے لئے ضرور فوت ہو گئے تھے مگر ہمیشہ کے لئے نہیں۔بلکہ وہ پھر زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے تھے۔اور پھر کسی وقت زمین پر اتریں گے اور پینتالیس برس زمین پر بسر کر کے پھر دوبارہ مریں گے یعنی دو موتیں ان پر ضرور وارد ہوں گی۔اس پر مولوی صاحب کو ایک مبسوط تقریر میں سمجھایا گیا کہ حضرت مسیح کی دو موتیں قرآن کریم اور حدیث سے ثابت نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایک ہی دفعہ مرکز خدا تعالیٰ کی طرف انتقال کر گئے اور فوت شدہ انبیاء میں جا ملے اور دوبارہ دنیا میں وہ آ نہیں سکتے ، کیونکہ اگر دوبارہ دنیا میں آویں تو پھر یہ دعویٰ قرآن کریم کے مخالف ہو گا۔اور کئی دلائل سے اُن کو سمجھا دیا گیا کہ حضرت عیسی حقیقت میں فوت ہو چکے ہیں اب دوبارہ دنیا میں ان کا آنا تجویز کرنا گویا قرآن کریم اور احادیث نبویہ کو چھوڑ دینا ہے۔لیکن مولوی صاحب یا تو ان دلائل کو سمجھ نہیں سکے یا عمداً حق پوشی کی راہ سے اس کے مخالف اشاعت کرنا انہوں نے اپنے لئے دنیوی مصلحت قرار دے دیا ہو گا۔چنانچہ سنا گیا ہے کہ ان کے بعض