حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 292 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 292

حیات احمد ۲۹۲ جلد سوم اس کا وجود اتنے بڑے فائدہ کا موجب ہے مگر ہم امید رکھتے ہیں کہ شاید شا کر علیم خدا ان کو بوجہ دَالٌ عَلَى الْخَيْر ہونے کے واقعی فہم بھی عطا کر دے تا کہ وہ اس فرستادہ خدا وند کوطوعاً قبول کریں۔میرا پکا ارادہ تھا کہ میں معمولاً ان پر کچھ نوٹ لکھتا یا ایک مختصر سا ریویو کرتا مگر میرے دلی دوست مخدوم معظم مولوی سید محمد احسن صاحب نے مجھے اس غرض سے سبکدوش کر دیا۔انہوں نے جیسا کہ اس خدمت کو ادا کیا ہے درحقیقت انہی جیسے فاضل اجل کا حصہ تھا جَزَاهُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔میرا یقین ہے کہ یہ ایسا نیک کام ان کے ہاتھ سے پورا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے رفع الدرجات کے لئے ایک یہ ہی بس ہے مگر قوی امید ہے کہ ہمارے حضرت سید صاحب موصوف روح قدس سے مؤید ہو کر اور بھی بڑے مفید اور منتج ثواب کام کریں گے۔الغرض مولوی محمد بشیر صاحب کے وجود کو ہم مغتنم سمجھتے ہیں جنہوں نے غیر ضروری مباحثہ اور بخلاف ایک پنجابی ملا کے لا طائل اصول موضوعہ کو چھوڑ کر اصل امر کو بحث کا تختہ مشق بنایا اور یوں خلق کثیر کے ہر روز انتظار جان کاہ کو رفع کر دیا گویا اس پر بھی اس بات کے کہنے سے چارہ نہیں کہ ہدایت ایک منجانب اللہ امر ہے اور وہ سچا ہادی لا معلوم اسباب کے وسایط سے سعیدانِ ازلی کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے مگر کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ راہ خوب صاف ہوگئی اور اس مضمون حیات و وفات مسیح کی بحث کی حجت قطعا و حکماً تمام ہوگئی۔ہم کمال ہمدردی اور اسلامی اخوت کی راہ سے اہلِ دہلی کو اتنا کمزور ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ ناحق کی ضد کو چھوڑ کر اس مامور من اللہ کو قبول کریں ورنہ ان کا انجام خطر ناک معلوم ہوتا ہے۔میں کانپتے ہوئے دل سے انہیں اتنا کہنے سے رک نہیں سکتا کہ ان کا جامع مسجد دہلی میں حضرت مسیح موعود کے برخلاف چھ ساتھ ہزار آدمی کا جمع کر کے طرح طرح کی ناسزا حرکات کا مرتکب ہونا دیکھ کر مجھے یاد آ گیا حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا وہ واقعہ جو کمالات عزیزی مطبوعہ دہلی میں لکھا ہے۔” جناب مولانا شاہ عبد العزیز جو واسطے نماز جمعہ کے جامع مسجد میں تشریف لے