حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 272
حیات احمد ۲۷۲ کے لئے دہلی میں اس مدت تک ٹھہرا رہا۔آپ نے میری طرف ذرا رُخ نہ کیا۔عوام کو میری تکفیر کا فتویٰ سنا کر فتنہ انگیز ملاؤں کی طرح بھڑ کا دیا۔مگر اپنے اسلام اور تقویٰ کا تو کوئی نشان نہ دکھلایا۔آپ خوب یاد رکھیں کہ ایک دن عدالت کا دن بھی ہے۔ان تمام حرکات کا اس دن آپ سے مؤاخذاہ ہو گا۔اگر میں دہلی میں نہ آیا ہوتا اور اس قدر قسمیں دے کر اور عہد پر عہد کر کے آپ سے بحث کا مطالبہ نہ کرتا تو شاید آپ کا اس انکار میں ایسا بڑا گناہ نہ ہوتا، لیکن اب تو آپ کے پاس کوئی عذر نہیں۔اور تمام دیلی کا گناہ آپ ہی کی گردن پر ہے۔اگر شیخ بٹالوی اور مولوی عبد المجید نہ ہوتے تو شاید آپ راہ پر آسکتے ، لیکن آپ کی بدقسمتی سے ہر وقت ان دونوں کی آپ پر نگرانی رہی۔میں تو مسافر ہوں۔اب انشاء اللہ تعالیٰ اپنے وطن کی طرف جاؤں گا۔آپ کی برانگیخت سے بہت سے لعن طعن اور گندی گالیاں دہلی والوں سے سن چکا۔اور آپ کے اُن دونوں رشید شاگردوں نے کوئی دقیقہ لعن طعن کا اٹھا نہ رکھا۔مگر آپ کو یاد رہے کہ آپ نے اپنے خدا دا د علم پر عمل نہیں کیا، اور حق کو چھپایا اور تقویٰ کے طریق کو بالکل چھوڑ دیا۔انسان اگر تقویٰ کی راہوں کو چھوڑ دے تو وہ چیز ہی کیا ہے۔مومن کی ساری عظمت اور بزرگی تقویٰ سے ہے۔شریر آدمی چالاکی سے جو کچھ چاہتا ہے، بغیر کسی قطعی ثبوت کے منہ پر لاتا ہے۔مگر عادل حقیقی کہتا ہے اے عمداً کجی کے اختیار کرنے والے! آخر مرنے کے بعد تو میری ہی طرف آئے گا اور میں تیرے ساتھ کوئی دوسرا حمایتی نہیں دیکھتا تیری باتوں کا ثبوت تجھ سے پوچھا جائے گا۔سواے شیخ الکل ! اُس دن سے ڈر جس دن ہاتھ اور پیر گواہی دیں گے۔اور دل کے خیال مخفی نہیں رہیں گے۔اے غافل مغرور! تو کیوں اپنے ربّ کریم سے نہیں ڈرتا۔تیرے پاس صحیح ابن مریم کے بجسده العنصری اٹھائے جانے کا کونسا ثبوت ہے تو کیوں اسے پیش نہیں کرتا؟ ہائے! تو اپنے دل کی حالت کو کیوں چھپاتا ہے۔اے شیخ! سفر جلد سوم