حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 271
حیات احمد ۲۷۱ یعنی جو کام تیرے دل پر قبض وارد کرے اور تیرا دل اس کے کرنے سے رُکتا ہو اور وہی کام تو کر بیٹھے تو وہی تیرا گناہ ہے اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انکار وفات مسیح کے بارے میں اگر آپ کے دل میں ایک قبض نہ ہوتی تو آپ ضرور علانیہ بحث کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ، لیکن یوں تو آپ نے گھر میں لاف و گزاف کے طور پر بارہا کہا کہ مسیح ابن مریم بجسده العنصری زندہ ہے۔یہی قرآن وحدیث سے ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ میرے بعض مخلص جو آپ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی آپ کی ان بے اصل لافوں کا ذکر کیا، لیکن چونکہ یہ صرف زبان کی فضول باتیں تھیں اور محض دروغ بے فروغ تھا اور دل پر قبض اور نومیدی تھی اس لئے آپ بحث کرنے کے لئے پیش قدمی نہ کر سکے۔اگر آپ کے ہاتھ میں ثبوت ہوتا تو آپ مجھے کب چھوڑتے۔میں نے غیرت دلانے والے لفظ بھی سراسر نیک نیتی سے استعمال کئے اور اب بھی کر رہا ہوں مگر آپ کو کچھ شرم نہ آئی۔میں نے یہ بھی لکھ بھیجا کہ حضرت مجھے اجازت دیجئے اور اپنی خاص تحریر سے مجھے اشارہ فرمائیے۔تو میں آپ ہی کے مکان پر حاضر ہو جاؤں گا اور مسئلہ حیات و وفات مسیح میں تحریری طور پر آپ سے بحث کروں گا اور میں نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر میں اپنے اس الہام میں غلطی پر نکلا اور آپ نے نصوص صریحہ بینہ قطعیہ سے مسیح ابن مریم کی جسمانی حیات کو ثابت کر دکھایا تو تمام عالم گواہ رہے کہ میں اپنے اس دعوئی سے دست بردار ہو جاؤں گا۔اپنے قول سے رجوع کروں گا۔اپنے الہام کو أَضْغَاتُ اخلام قرار دے دوں گا اور اپنے اس مضمون کی کتابوں کو جلا دوں گا۔اور میں نے اللہ جَلَّ شَانُہ کی قسم بھی کھائی کہ در حالت ثبوت مل جانے کے میں ایسا ہی کروں گا لیکن اے حضرت شیخ الکل! آپ نے میری طرف تو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔میں مسافر تھا۔آپ نے میری تکالیف پر بھی خیال نہ فرمایا۔میں آپ ہی جلد سوم