حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 270 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 270

حیات احمد ۲۷۰ کے لئے عدالت میں بلائے جاتے اور حکماً پوچھا جاتا کہ سچ کہو تمہارے پاس حضرت مسیح ابن مریم کی جسمانی حیات اور جسمانی صعود و نُزُول پر کیا کیا قطعی دلائل قرآن اور حدیث کی رو سے موجود ہیں جو عقیدہ قرار دینے کے لئے کافی ہوں ، تو کیا شیخ الکل صاحب عدالت میں حاضر نہ ہوتے اور اپنا بیان نہ لکھواتے؟ پھر خدا تعالیٰ کی عدالت سے کیوں نہ ڈرے۔ایک دن مرنا ہے یا نہیں؟ غضب کی بات ہے کہ نام شیخ الکل اور کرتوت یہ ، اے شیخ الکل ! بھلا آپ انصاف فرما دین کہ آپ اس جرم کے مرتکب ہوئے یا نہیں کہ آپ نے کتاب اللہ کے اس حکم کو چھپایا جس کے ظاہر کرنے کے لئے تاکید کی گئی تھی۔اگر مثلاً عدالت برطانیہ سے اسی امر کے دریافت کے لئے آپ کے نام سمن جاری ہوتا اور در حالت اخفائے شہادت قانونی سزا کی دھمکی بھی دی جاتی تو کیا آپ اپنا بیان لکھوانے سے انکار کرتے یا یہ کہتے کہ میں نہیں جاؤں گا۔بٹالوی شیخ کو لے جاؤ یا مولوی عبدالمجید کی شہادت قلمبند کر لو آپ کو عدالتِ ربانی سے کیوں اس قدر استغناء ہے۔ہم تو آپ کے منہ کو دیکھتے دیکھتے تھک بھی گئے۔آپ ۲۰/ اکتوبر کے جلسہ میں بھی آئے تو کیا خاک آئے۔آتے ہی بحث سے انکار کر دیا اور حسب منشاء اشتہار قسم کھانے سے گریز کی اور اخفاء شہادت کا کبیرہ گناہ ناحق اپنے ذمہ لے لیا۔اشتہار ۱۳ / ربیع الاول میں جو آپ کی طرف سے جاری ہوا ہے۔جو اس کی خوب تعریف لکھی ہے کہ بدیں پیرانہ سالی تمام قولی نہایت عمدہ ہیں اور ہاتھ پیروں کی قوت اور آنکھوں کی بینائی قابلِ تعریف ہے۔ہر ایک مرض سے بفضلہ تعالی امن ہے۔پھر جس حالت میں ایسی عمدہ صحت ہے اور تمام قوی تعریف کے لائق ہیں تو پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ بحث سے گریز کیوں ہے، کیا ناظرین آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں؟ اے شیخ الکل! اس خدائے عَزَّوَجَلَّ سے ڈر جو تیرے دل کو دیکھ رہا ہے۔جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔مَاحَاكَ فِي صَدْرِكَ فَهُوَ ذَنْبُكَ جلد سوم