حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 269 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 269

حیات احمد ۲۶۹ غربت اٹھا کر اس شہر میں آ ٹھہرا۔کوئی منصف مجھے سمجھا دے کہ میرے مقابلہ پر شیخ الکل صاحب نے کیا کیا۔ہاں ایک یکطرفہ جلسہ مقرر کر کے یہ چال تو ضرور چلی کہ ایک طرف نا گہانی طور پر مجھے بلایا اور دوسری طرف دہلی کے سفہاء اور اوباشوں کو بے اصل بہتانوں سے ورغلا کر اُسی دن میرے گھر کے گردا گرد جمع کر دیا۔اور صد ہا بد سرشت لوگوں کے دلوں میں جوش ڈال دیا۔جس سے وہ دلیری سے کوہستانی غازیوں کی طرح مارنے کے لئے مستعد ہو گئے اور مجھے باہر قدم رکھنے کی بھی گنجائش باقی نہ رہنے دی بلکہ زنانہ مکان کے کواڑ توڑنے لگے اور بعض وحشی خونخوار زنانہ مکان میں گھس آئے اور پھر اس مجبوری کی وجہ سے جو میں پہلے اس جلسہ یکطرفہ میں حاضر نہ ہو سکا تو عام طور پر شائع کر دیا کہ ہم نے فتح پائی۔ناظرین خود سوچ لیں کہ یہ کیسا کام تھا اور کن لوگوں سے ایسے کام ہوا کرتے ہیں۔پھر دوسری چال یہ چلے کہ جب انہیں خوب معلوم ہو گیا کہ وہ حضرت مسیح ابن مریم کی حیاتِ جسمانی کا ثبوت ہر گز دے نہیں سکتے اور اگر اس بحث کے لئے مقابلہ پر آتے ہیں تو سخت رسوائی ہوتی ہے تو انہوں نے بعض زبان دراز شاگردوں کو جن میں صرف نقالوں کی طرح تمسخر کا مادہ ہے بیہودہ اشتہارات کے جاری کرنے اور وقت ٹالنے کے لئے کھڑا کر دیا۔گویا حضرت نے اس تدبیر سے اُن تلامیذ کو اپنا فدیہ دے کر اپنی جان چھڑانے کا ارادہ کیا، لیکن منصفین سوچ سکتے ہیں کہ اُن دھوکہ دہ اشتہاروں میں مطلب کی بات کو نسی لکھی گئی یا اس بات کا کیا جواب دیا گیا کہ کیوں شیخ الکل صاحب اتنا بڑا موٹا نام رکھوا کر اس ضروری بحث سے گریز کرتے ہیں، اور کون سی ایسی آفت اُن پر نازل ہے کہ جو اُن کو بحث کرنے سے روکتی ہے۔شیخ الکل صاحب کی ان کارروائیوں سے ہر ایک عقلمند اُن کی دیانت و امانت و حق پرستی و دینداری و ہمدردی ء اسلام کا اندازہ کر سکتا ہے۔اگر وہ مثلاً اس بیان کے ادا کرنے جلد سوم