حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 268
حیات احمد ۲۶۸ جو اپنے ثبوت کے لئے دلیل کا محتاج ہے۔یعنی جب تک کسی مفقود الخبر غائب از نظر کی ایسی لمبی عمر جو طبعی عمر سے صدہا گو نہ زیادہ ہے۔دلائل یقینیہ سے ثابت نہ کی جائے تب تک کوئی عدالت اس بیان کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ وہ زندہ ہے۔اس تقریر سے اس جگہ میری غرض صرف اس قدر ہے کہ جو شخص حضرت مسیح ابن مریم کی حیاتِ جسمانی خارق عادت کا دعویٰ کرتا ہے بار ثبوت اُس پر ہے اور اُسی کا یہ فرض ہے کہ آیات قطعیہ اور احادیث صحیحہ کے منطوق سے اس دعوئی کو ثابت کرے۔اور اگر یہ دعوی ثابت نہ ہو۔تو اس کا عدم ثبوت ہی وفات کے لئے کافی دلیل ہے۔کیونکہ وفات ایک طبعی امر ہے جو عمر طبعی کے بعد ہر ایک متنفس کے لئے ضروری ہے۔لیکن پھر بھی خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان وہموں کی بیخ کنی کرنے کے لئے مسیح ابن مریم کی وفات کو شافی بیان کے ساتھ ظاہر فرما دیا ہے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آخری زمانہ کے فتنوں میں سے ایک یہ بھی فتنہ ہوگا کہ ایک عاجز بندہ وہ مسیح ابن مریم اخیر زمانہ تک زندہ رہنے والا قرار دیا جاوے گا۔سو اُس نے مسیح کی وفات کو ایسے صاف طور سے بیان کیا ہے کہ ہر ایک وہم کی جڑ کات دی۔ہماری کتاب ازالہ اوہام کو دیکھو اور ان ا تمام دلائل کو غور سے پڑھو جو مسیح ابن مریم کی وفات کے بارے میں ہیں۔ان تمام واقعات سے جو ہم نے اس اشتہار میں ظاہر کئے ہیں، منصف مزاج لوگ بخوبی مطمئن ہو سکتے ہیں کہ شیخ الکل صاحب نے اس عاجز کے مقابلہ پر وہ طریق اختیار نہیں کیا جو ایسے موقع پر ایک متقی پارسا طبع کو کرنا پڑتا ہے بلکہ اپنے زعم میں گل اکابر اور ائمہ کے مقتداء بن کر اور شیخ العرب والعجم کہلا کر پھر اظہار حق سے ایسا منہ چھپایا کہ ایک ادنیٰ درجہ کا مومن بھی ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔اور ہرگز نہ چاہا کہ سیدھے ہو کر بحث کریں۔میں نے اپنے ہر ایک اشتہار میں شیخ الکل صاحب کو مخاطب کیا اور انہیں کی مشیخیت آزمانے کے لئے دہلی تک پہنچا اور اپنے وطن کو چھوڑ کر اور تکالیف و مصائب جلد سوم