حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 267 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 267

حیات احمد ۲۶۷ ڈر کر اس شہادت کو ادا کر دیتے کہ کیا قرآن اور حدیث کے نصوص بینہ سے قطعی اور یقینی طور پر مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی ثابت ہوتی ہے یا اس کے مخالف ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے اپنی اس شہادت کو جو ان سے محض اللہ طلب کی گئی تھی کیوں چھپایا۔کیا انہیں معلوم نہ تھا کہ اللہ جَلَّ شَانُہ اپنی کتاب عزیز میں فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّتُهُ لِنَّاسِ فِي الْكِتُبِ أوليْكَ يَلْعَنُهُمُ اللهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللعنونَ الآية- یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ کی ان کھلی کھلی تعلیمات اور ہدایتوں کو لوگوں پر پوشیدہ رکھتے ہیں جن کو ہم نے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے اُن پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے اور نیز اس کے بندوں کی بھی لعنت۔اب اے ناظرین میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی کا قرآن اور حدیث میں ایک ذرہ نشان نہیں ملتا، لیکن ان کی وفات پر کھلے کھلے نشان اور نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ موجود ہیں۔اور اگر ان کی وفات کی نسبت قرآن اور حدیث میں کچھ ذکر بھی نہ ہوتا تب بھی اس وجہ سے کہ حیات ثابت نہیں کی گئی ان کی وفات ہی ثابت ہوتی۔قرآن کریم میں بہتیرے ایسے نبیوں کا ذکر ہے جن کی وفات کا کچھ حال بیان نہیں کیا گیا کہ آخر وہ مرے یا کیا ہوئے ،لیکن محض اس خیال سے کہ اُن کی وفات کا قرآن کریم میں ذکر نہیں ہے یہ ثابت نہیں ہو گا کہ وہ زندہ ہیں۔وفات انسان اور ہر ایک حیوان کے لئے ایک اصلی اور طبعی امر ہے جس کے ثبوت دینے کے لئے درحقیقت کچھ بھی ضرورت نہیں۔جو شخص کئی سو برس سے مَفْقُوْدُ الْخَبر ہو وہ قوانینِ عدالت کی رو سے مردوں میں شمار کیا جائے گا گو اُس کو مرتے ہوئے کسی نے بھی نہ دیکھا ہو لیکن حیات خارق عادت ایک استدلالی امر ہے لى البقرة : ١٢٠ جلد سوم