حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 266 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 266

حیات احمد ۲۶۶ تعجب ہو گیا کہ یہ کیا ہوا۔اور کیوں شیخ الکل نے ایسے ضروری وقت میں بحث سے انکار کر دیا اور بزدلی اختیار کی۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ حق پر نہیں تھے۔اور قرآن کریم اُن کو اپنے پاس آنے سے دھکے دیتا تھا اور احادیث صحیحہ دور سے کہتی تھیں کہ اس طرف مت دیکھ۔ہمارے خوان نعمت میں تیرے لئے کچھ نہیں۔سو بوجہ اس کے کہ ان کے ہاتھ میں کوئی دلیل نہیں تھی اور نہ اس طرف کے دلائل کا اُن کے پاس کوئی جواب تھا اس لئے وہ عاجز ہو کر گالیت ہو گئے۔اور ان پر یہ خوف غالب آگیا کہ اگر میں بحث کروں گا تو سخت رسوائی میری ہوگی اور تمام رونق شیخ الکل ہونے کی ایک ہی دفعہ جاتی رہے گی۔اور زندگی مرنے سے بدتر ہو جائے گی۔اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ اگر فی الحقیقت ایسی ہی حالت تھی تو پھر شیخ الکل نے جلسہ بحث میں صاف صاف کیوں نہ کہہ دیا کہ میں غلطی پر تھا۔اب میں نے اپنے قول سے رجوع کیا۔تو اس کا جواب یہی ہے کہ اگر حقیقی تقوی شامل حال ہوتا اور خدا تعالیٰ کا کچھ خوف ہوتا تو بے شک وہ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ اپنی غلطی کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کو خوش کرتے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ جب انسان کا دل سخت ہو جاتا ہے اور نگ و ناموس اور پندار اور عجب اور تکبر کا زنگ اس کے رگ وریشہ میں رچ جاتا ہے تو یہ ذلت قبول کر کے اپنی مشہور کردہ رائے سے رجوع کرنا بہت مشکل اُس کے لئے ہو جاتا ہے۔تو پھر صرف حق پوشی کیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر افعال ناشائستہ اُس سے صادر ہوتے ہیں۔غرض علماء کے لئے مشہور کردہ رائے سے رجوع کرنا اَشَدُّ مِنَ الْمَوْتِ ہے اور اس وجہ سے شیخ الکل صاحب شہادتِ حقہ کے ادا کرنے کے لئے توفیق نہ پاسکے اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ مجھے اس بات کا سخت رنج ہے کہ شیخ الکل صاحب نے اپنی اس پیرانہ سالی کی عمر میں شہادتِ حقہ کا اخفا کر کے اپنے سوء خاتمہ کی ذرہ پر واہ نہ کی۔ان کا یہ فرض تھا کہ خدا تعالیٰ سے جلد سوم