حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 262
حیات احمد ۲۶۲ کتا ہمیں جلا دوں گا، لیکن شیخ الکل صاحب نے ان دونوں طریقوں میں سے کسی طریق کو منظور نہ کیا۔ہر چند اس طرف سے بار بار یہی درخواست تھی کہ آپ بحث کیجئے یا حسب شرائط اشتہار قسم ہی کھائیے تا اہل حق کے لئے خدائے تعالیٰ کوئی نشان ظاہر کرے۔مگر شیخ الکل صاحب کی طرف سے گریز تھی اور آخر انہوں نے اُس غرق ہونے والے آدمی کی طرح جو بچنے کی شمع خام سے گھاس پات کو ہاتھ مارتا ہے یہ حیلہ و بہانہ بوساطت اپنے بعض وکلاء کے صاحب سٹی سپر نٹنڈنٹ پولیس کی خدمت میں جو اسی کام کے لئے فریقین کے درمیان کھڑے تھے پیش کیا کہ یہ شخص عقائد اسلام سے منحرف ہے۔معجزات کو نہیں مانتا، لیلة القدر کو تسلیم نہیں کرتا۔اور معراج اور وجود ملائکہ سے منکر ہے۔اور پھر نبوت کا بھی مدعی اور ختم نبوت سے انکاری ہے۔پس جب تک یہ شخص اپنے عقائد کا ہم سے تصفیہ نہ کرے ہم وفات وحیات مسیح کے بارے میں ہرگز بحث نہ کریں گے، یہ تو کافر ہے۔کیا کافروں سے بحث کریں؟ اس وقت میری طرف سے رو برو صاحب سٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ان کو یہ جواب ملا کہ یہ سب باتیں سراسر افتراء ہیں۔مجھے ان تمام عقائد میں سے کسی کا بھی انکار نہیں۔ہاں اصل عقائد کو مسلم رکھ کر بعض نکات و معارف ارباب کشوف کے طور پر کتاب توضیح مرام اور ازالہ اوہام میں لکھے ہیں جو اصل عقائد سے معارض نہیں ہیں۔اگر فریق مخالف اپنی کو تہ فہمی اور بدنیتی سے انہیں متصوفانہ اسرار اور الہامی نکات و معارف کو خلاف عقائد اہل سنت خیال کرتے ہیں تو یہ خود اُن کا قصور فہم ہے۔میری طرف سے کوئی اختلاف نہیں۔اور میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ ایک رسالہ مستقلہ ان کی تفہیم و تلقین کی غرض سے اس بارہ میں شائع کروں گا تا پبلک خود فیصلہ کر لے کہ کیا ان عقائد میں اہلِ سنت والجماعت کے عقائد سے میں نے علیحدگی اختیار کی ہے یا در حقیقت بہت سے لطائف اسرار کے ساتھ وہی عقائد اہل سنت ہیں کوئی دوسرا امر نہیں۔صرف معترضین کی آنکھوں پر غبار ہے جو خویش کو اجنبی کی صورت میں دیکھتے ہیں اور موافق کلی کو مغائر کلی خیال کرتے ہیں۔اور بار بار یہ بھی کہا گیا کہ جس حالت میں میں نے اشتہار بھی شائع کر دیا ہے کہ ان عقائد سے انکار کرنا میرا مذ ہب نہیں ہے جلد سوم