حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 261 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 261

حیات احمد ۲۶۱ تہی دست محض تھا۔جس حال میں قرآن کریم اور احا دیث صحیحہ نبویہ میں حیات جسمانی مسیح ابن مریم کے بارے میں ایک ذرہ یقینی اور قطعی ثبوت نہیں ملتا اور وفات مسیح پر اس قدر ثبوت قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں موجود ہیں جو چمکتے ہوئے نور کی طرح دل کو تسلی اور اطمینان کی روشنی بخشتے ہیں۔پھر حضرت شیخ الکل صاحب حیات مسیح ابن مریم پر کون سی دلیل لاتے اور کہاں سے لاتے؟ پس یہی وجہ تھی کہ وہ ایسے چپ ہوئے کہ گویا قالب میں جان نہیں یا جسم میں دم نہیں۔اس نازک وقت میں جب اُن سے دم بدم یہ مطالبہ ہو رہا تھا کہ اگر آپ یہ عقیدہ مسیح کی حیات جسمانی کا در حقیقت صحیح اور یقینی اور آیات قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے ثابت کر دیں تو ہم اس ایک ہی ثبوت سے تمام دعوئی چھوڑ دیتے ہیں۔آئیے وہ ثبوت پیش کیجئے۔شیخ الکل کی وہ حالت محسوس ہوتی تھی کہ گویا اُس وقت جان کندن کی حالت اُن پر طاری تھی۔اس جلسہ میں تخمیناً پانچ ہزار سے کچھ زیادہ آدمی ہوں گے اور شہر کے معزز اور رئیس بھی موجود تھے اور سر کا رانگریزی کی طرف سے امن قائم رکھنے کے لئے ایسا احسن انتظام ہو گیا تھا کہ جس سے بڑھ کر متصور نہیں۔صاحب سٹی سپر نٹنڈنٹ پولیس یورپین مع انسپکٹر صاحب اور ایک کافی جماعت پولیس کی موقعہ جلسہ پر جو جامع مسجد دہلی تھی، تشریف لے آئے تھے۔اور ہر ایک طور اور پہلو سے حفظ امن کے مراتب اپنے ہاتھ میں لے کر اس بات کے منتظر تھے کہ اب فریقین تہذیب اور شائستگی۔بحث شروع کریں۔اسوقت تاکید أو اتـمـامـا للحجة حضرت شیخ الکل صاحب کی خدمت میں جو ایک گوشہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے یہ رقعہ بھیجا کہ میں موجود ہوں۔اب آپ جیسا کہ اشتہار۱۷ / اکتوبر ۱۸۹۱ء میں میری طرف سے شائع ہو چکا ہے، حیات و وفات مسیح کے بارے میں مجھ سے بحث کریں اور اگر بحث سے عاجز ہیں تو حسب منشاء اشتہار مذکورہ بدیں مضمون قسم کھا لیں کہ میرے نزدیک مسیح ابن مریم کا زنده بجسده العنصری آسمان پر اٹھایا جانا قرآن اور حدیث کے نصوص صریحہ قطعیہ بینہ سے ثابت ہے تو پھر آپ بعد اس قسم کے اگر ایک سال تک اس حلف دروغی کے اثر بد سے محفوظ رہے تو میں آپ کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا، بلکہ اس مضمون کی تمام جلد سوم