حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 255 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 255

حیات احمد ۲۵۵ بڑی مشکل سے خدائے تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُن سے رہائی پائی اور سخت مدافعت کے بعد یہ بلا دفع ہوئی۔اب ہر ایک منصف مزاج سمجھ سکتا ہے کہ اس بلوہ عوام کی حالت میں کیونکر میں گھر کو اکیلا چھوڑ کر جلسہ بحث میں حاضر ہو سکتا تھا۔اب انصاف اور غور کا مقام ہے کہ میرے جیسے مسافر کی دہلی والوں کو ایسی حالت میں ہمدردی کرنی چاہئے تھی نہ یہ کہ ایک طرف عوام کو ورغلا کر اور اُن کو جوش دہ تقریریں سنا کر میرے گھر کے ارد گرد کھڑا کر دیا اور دوسری طرف مجھے بحث کے لئے بلایا اور پھر نہ آنے پر جو موانع مذکورہ کی وجہ سے تھا شور مچا دیا کہ وہ گریز کر گئے۔اور ہم نے فتح پائی۔کیا یہ مرغوں اور بٹیروں کی لڑائی تھی یا اظہار حق کے لئے بحث تھی۔اگر ایمانداری پر اس جلسہ کی بناء ہوتی تو عذر معقول سن کر خود دوسری تاریخ بحث مقرر کرنے کے لئے راضی ہو جاتے۔اور میں نے اُسی روز یہ بھی سنا کہ راہ میں بھی امن نہ تھا اور مقام تجویز کردہ بحث میں عوام کی حالت قابل اطمینان نہ تھی اور عین جلسہ میں مخالفانہ باتیں تہمت اور بہتان کے طور پر عوام کو سنا کر اُن کو بھڑکا یا جا رہا تھا، لیکن سب سے بڑھ کر جو بچشم خود صورت فساد دیکھی گئی وہ یہی تھی جو ابھی میں نے بیان کی ہے۔اگر مولوی نذیرحسین صاحب کو یہ بلا پیش آتی تو کیا ان کی نسبت یہ کہنا جائز ہوتا کہ وہ بحث سے کنارہ کر گئے۔جس حالت میں یہ واقعات ایسے ہیں تو پھر کیسی بے شرمی کی بات ہے کہ اس غیر حاضری کو گریز پر حمل کیا جائے۔اے حضرت ! خدا تعالیٰ سے ڈریں اور خلاف واقعہ منصوبوں کو فتح یابی کے پیرایہ میں مشہور نہ کریں۔اب میں بفضلہ تعالیٰ اپنی حفاظت کا انتظام کر چکا ہوں اور بحث کے لئے طیار بیٹھا ہوں مصائب سفر اٹھا کر اور دہلی والوں سے ہر روز گالیوں اور لعن طعن کی برداشت کر کے محض آپ سے بحث کرنے کے لئے اے شیخ الکل صاحب! بیٹھا ہوں۔یہ عذر کوئی عقلمند قبول نہیں کرے گا کہ آپ کے یکطرفہ جلد سوم