حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 254
حیات احمد ۲۵۴ جاری کیا جاتا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور یونہی اڑا دیا گیا کہ جلسہ بحث میں حاضر نہیں ہوئے اور گریز کر گئے اور شیخ الکل صاحب سے ڈر گئے۔ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ یہ عاجز اسی غرض سے تو اپنا وطن چھوڑ کر دہلی میں غربت اور مسافرت کی حالت میں آ بیٹھا ہے تا شیخ الکل صاحب سے بحث کر کے ان کی دیانت وامانت اور ان کی حدیث دانی اور ان کی واقفیت قرآنی لوگوں پر ظاہر کر دیوے تو پھر اُن سے ڈرنے کے کیا معنے ؟ غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر یہ عاجز شیخ الکل سے ڈر کر ان کے یک طرفہ تجویز کردہ جلسہ بحث میں حاضر نہیں ہوا تو اب شیخ الکل صاحب کیوں بحث سے کنارہ کش ہیں اور کیوں اپنے اس علم اور معرفت پر مطمئن نہیں رہے جس کے جوش سے یکطرفہ جلسہ تجویز کیا گیا تھا۔ہر ایک منصف ان کے پہلے یکطرفہ جلسہ کی اصل حقیقت اسی سے سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ جلسہ صحت نیت پر مبنی تھا اور مکاری اور دھوکہ دہی کا کام نہیں تھا تو ان کا وہ پہلا جوش اب کیوں ٹھنڈا ہو گیا۔اصل بات یہ ہے کہ وہ یکطرفہ جلسہ محض شیخ بٹالوی کا ایک فریب حق پوشی کی غرض سے تھا۔جس کی واقعی حقیقت کھولنے کے لئے اب شیخ الکل صاحب کو بحث کے لئے بلایا جاتا ہے۔یکطرفہ جلسہ میں حاضر ہونا اگر چہ میرے پر فرض نہ تھا کیونکہ میری اتفاق رائے سے وہ جلسہ قرار نہ پایا تھا۔اور میری طرف سے ایک خاص تاریخ میں حاضر ہونے کا وعدہ بھی نہ تھا مگر پھر بھی میں نے حاضر ہونے کے لئے طیاری کر لی تھی، لیکن عوام کے مفسدانہ حملوں نے جو ایک نا گہانی طور پر کئے گئے ، اُس دن حاضر ہونے سے مجھے روک دیا۔صد ہا لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ اس جلسہ کے عین وقت میں مفسد لوگوں کا اس قدر ہجوم میرے مکان پر ہو گیا کہ میں ان کی وحشیانہ حالت دیکھ کر اوپر کے زنانے مکان میں چلا گیا۔آخر وہ اسی طرف آئے اور گھر کے کواڑ توڑنے لگے اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ بعض آدمی زنانہ مکان میں گھس آئے اور ایک جماعت کثیر نیچے اور گلی میں کھڑی تھی جو گالیاں دیتے تھے اور بڑے جوش سے بد زبانی کا بخار نکالتے تھے۔جلد سوم