حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 21
حیات احمد ۲۱ جلد سوم ظاہر ہے کہ ایسی کتاب کا مرتب و شائع ہونا جس میں تمام بیعت کر نیوالوں کے نام و دیگر پتہ ونشان درج ہوں انشاء اللہ القدیر بہت سی خیر و برکت کا موجب ہو گا۔ازانجملہ ایک بڑی عظیم الشان بات یہ ہے کہ اس ذریعہ سے بیعت کرنے والوں کا بہت جلد باہم تعارف ہو جائے گا اور با ہم خط وکتابت کرنے اور افادہ و استفادہ کے وسائل نکل آئیں گے اور غائبانہ ایک دوسرے کو دعائے خیر سے یاد کریں گے اور نیز اس باہمی شناسائی کی رو سے ہر ایک موقعہ محل پر ایک دوسرے کی ہمدردی کر سکیں گے اور ایک دوسرے کی غمخواری میں یاران موافق و دوستان صادق کی طرح مشغول ہو جائیں گے اور ہر ایک کو ان میں سے اپنے ہم ارادت لوگوں کے ناموں پر اطلاع پانے سے معلوم ہو جائے گا کہ اس کے روحانی بھائی دنیا میں کس قدر پھیلے ہوئے ہیں اور کن کن خدا داد فضائل سے متصف ہیں۔سو یہ علم ان پر ظاہر کرے گا کہ خدا تعالیٰ نے کس خارق عادت طور پر اس جماعت کو تیار کیا ہے اور کس سُرعت اور جلدی سے دنیا میں پھیلایا ہے۔اور اس جگہ اس وصیت کا لکھنا بھی موزوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک شخص اپنے بھائی سے بکمال ہمدردی و محبت پیش آوے اور حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر ان کا قدر کرے۔ان سے جلد صلح کر لیوے اور دلی غبار کو دور کر دیوے اور صاف باطن ہو جاوے۔اور ہرگز ایک ذرہ کینہ اور بغض ان سے نہ رکھے لیکن اگر کوئی عمداً ان شرائط کی خلاف ورزی کرے جو اشتہا ر ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء میں مندرج ہیں۔اور اپنی بیبا کا نہ حرکات سے باز نہ آوے تو وہ اس سلسلہ سے خارج کیا جاوے گا۔یہ سلسلہ بیعت محض بمرادفراہمی طائفہ متقین یعنی تقوی شعار لوگوں کی جماعت کے جمع کرنے کیلئے ہے تا ایسے متقیوں کا ایک بھاری گروہ دنیا پر اپنا نیک اثر ڈالے اور ان کا اتفاق اسلام کیلئے برکت و عظمت و نتائج اس جماعت کے نیک اثر سے جیسے عامہ خلائق منتفع ہوں گی۔ایسا ہی اس پاک باطن جماعت کے وجود مبارک سے گورنمنٹ برطانیہ کے لئے انواع و اقسام کے فوائد متصور ہیں جن سے اس گورنمنٹ کو خداوند عزوجل کا شکر گزار ہونا چاہئے۔از انجملہ ایک یہ کہ یہ لوگ بچے جوش و دلی خلوص سے اس گورنمنٹ کے خیر خواہ اور دعا گو ہوں گے کیونکہ بموجب تعلیم الاسلام ( جس کی پیروی اس گروہ کا عین مدعا ہے ) حقوق عباد کے متعلق اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کی بات اور محبت اور ظلم اور پلید راہ نہیں کہ انسان جس سلطنت کے زیر سایہ بامن و عافیت