حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 234
حیات احمد ۲۳۴ جلد سوم میں لا دوں گا اب مجھے میں آیتیں قرآن شریف سے نکال کر دو۔مولوی محمد حسین بولے کہ حدیثیں نہیں پیش کیں۔کہا کہ حدیثوں کا تو ذکر ہی نہیں۔مقدم قرآن شریف ہے۔مولوی محمد حسین صاحب نے کھڑے ہو کر اور گھبرا کر دو پٹہ یعنی عمامہ سر سے پھینک دیا اور کہا کہ تو مرزا کو ہرا کے نہیں آیا۔ہمیں ہرایا اور ہمیں شرمندہ کیا میں مدت سے مرزا کو حدیث کی طرف لا رہا ہوں۔اور وہ قرآن شریف کی طرف مجھے کھینچتا ہے۔قرآن شریف میں اگر کوئی آیت مسیح کی زندگی میں ہوتی تو ہم کبھی کی پیش کر دیتے ہم تو حدیثوں پر زور دے رہے ہیں۔قرآن شریف سے ہم سرسبز نہیں ہو سکتے اور قرآن شریف مرزا کے دعوئی کو سرسبز کرتا ہے تیجے تو مولوی نظام الدین کی آنکھیں کھل گئیں اور کہا کہ جب قرآن شریف تمہارے ساتھ نہیں ہے تو اتنا دعویٰ تم نے کیوں کیا تھا اور کیوں ہیں آیتوں کے دینے کا مجھ سے وعدہ کیا تھا اب میں کیا منہ لے کے مرزا کے پاس جاؤں گا۔اگر قرآن شریف تمہارے ساتھ نہیں ہے۔تمہارا ساتھ نہیں دیتا اور مرزا کے ساتھ ہے اور مرزا کا ساتھ دیتا ہے تو میں بھی مرزا کے ساتھ ہوں۔تمہارے ساتھ نہیں۔یہ دنیا کا معاملہ نہیں ہے جو شرم کرنی چاہئے۔یہ دین کا معاملہ ہے۔چدھر قرآن شریف اُدھر میں۔اس پر مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب یہ مولوی نظام الدین تو کم عقل آدمی ہے۔اس کو ابوہرھرۃ " والی آیت نکال کر دکھا دو۔مولوی نظام الدین نے کہا کہ میں تو سکھنی (یعنی خالص ) اللہ تعالیٰ کی آیت لوں گا ابو ہریرہ کی آیت نہیں لینے کا۔دونوں مولوی بولے ارے بیوقوف! آیت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔لیکن ابو ہریرہ نے نقل کی ہے۔اب مولوی نظام الدین وہاں سے چلنے لگے۔مولوی محمد حسین صاحب نے جب دیکھا کہ مولوی نظام الدین ہاتھ سے گیا اور تو کوئی بات نہ سوجھی کہنے لگا کہ مولوی محمد حسن صاحب تم اس کی روٹی بند کر دو۔آئندہ کو اس کے روٹی مت دینا۔بات یہ ہے کہ مولوی نظام الدین ہمیشہ کھانا مولوی محمد حسن صاحب کے ہاں کھایا کرتے میں اللہ تعالیٰ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مولوی محمد حسین صاحب نے یہ باتیں کیں اس میں جھوٹ نہیں ہے۔(سراج الحق )