حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 228 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 228

حیات احمد ۲۲۸ جلد سوم اشتہار شائع کیا کہ جو شخص حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات میں قرآن شریف کی آیت صریح اور حدیث صحیح پیش کرے تو فی آیت اور فی حدیث دس روپے انعام دیئے جاویں گے۔اور روپے پہلے بنک میں جمع کر دیئے جائیں گے۔اس اشتہار کو بھی سن کر خاموش ہو رہے۔اور کوئی نہ اٹھا۔خدا جانے مولویوں کو زمین نگل گئی۔یا سانپ سونگھ گیا۔صدائے برنخاست۔مولوی غلام نبی صاحب تو بس حضرت اقدس علیہ السلام کے ہور ہے اور ان کا ایسا ہر دہ اور بحر کھلا کہ جو کوئی مولوی یا اور شخص آتا اس سے بات کرتے اور مباحثہ کے لئے آمادہ ہو جاتے۔اور حضرت اقدس کا چہرہ ہی دیکھتے رہتے اور خوشی کے مارے پھولے نہ سماتے اور حضور کا کلام سننے کے سوا اور کوئی کام نہ تھا۔ایک روز زمین و آسمان کی گردش کے متعلق ذکر آیا حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ زمین کی گردش بھی قرآن شریف سے ثابت ہے اور پھر یہ آیت پڑھی إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا یہ آیت سن کر مولوی صاحب وجد میں آگئے اور کہنے لگے کہ یہ ہے قرآن کی سمجھ۔ہم نے قرآن مجید پڑھا لیکن اس طرف نظر نہ کی اور نہ اس طرف غور کیا۔قرآن شریف سمجھنے کا حق حضرت اقدس علیہ السلام کا ہی ہے۔جو خدا کی طرف سے آتا ہے۔وہی قرآنی نکات اور اسرار و معارف سے واقف ہوتا ہے۔کیا خوب فرمایا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے۔خود بخود فهمیدن قرآن گمان باطل است هر که از خود آورد او نجس و مردار آورید اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ سے اب تو مولوی صاحب کو حضرت اقدس سے عشقیہ حالت میں ترقی ہونے لگی۔جب حضرت اقدس علیہ السلام زنانہ مکان میں تشریف لے جاتے تو مولوی صاحب بے قرار دیوانہ وار ہو جاتے تھے۔اور کبھی ٹہلتے اور کبھی کبھی بیٹھے بیٹھے رویا لى الزلزال : ٢ کے ترجمہ۔آپ ہی آپ قرآن کو سمجھ لینا ایک غلط خیال ہے۔جو شخص اپنے پاس سے اس کا مطلب بیان کرتا ہے وہ گندگی اور مردار پیش کرتا ہے۔سے الواقعة :۸۰