حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 227 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 227

حیات احمد ۲۲۷ جلد سوم طالب علم تھا اور تھا کیا ہم سے مقابل ہو تو پھر دیکھنا۔مرزا کو جواب نہ بن پڑے۔اتفاقاً ہمارے بھائی ماسٹر صاحب احمدی اُدھر سے آتے تھے۔جب یہ بات انہوں نے مولویوں سے سنی تو کہنے لگے کہ چلو مرزا صاحب تو موجود ہیں کیوں نہیں مقابلہ کرتے تو مولویوں نے کھسیانے ہو کر کہا کہ مرزا کا مقابل ہونا اس کو عزت دینا ہے کہنے کو تو یہ بات کہہ دی لیکن شرم کے مارے کچھ بن نہ سکتا تھا۔آسمان دور اور زمین سخت۔کریں تو کیا کریں۔اس کے بعد مولویوں کی طرف سے مولوی غلام نبی صاحب کے پاس مباحثہ کے پیغام آنے لگے۔اور بعض کی طرف سے پھسلانے کے لئے کہ ہماری ایک دو بات سن جاؤ اس کے جواب میں مولوی صاحب نے یہ شعر پڑھا حضرت ناصح جو آئیں دیدہ و دل فرش راہ کوئی مجھ کو یہ تو سمجھائے کہ سمجھائیں گے کیا بعد از سلام و پیام و مباحثہ مولوی صاحب موصوف نے مباحثہ کرنا منظور کر لیا۔لیکن باتیں ہی باتیں تھیں مباحثہ کے لئے کوئی نہ آیا۔مولوی غلام نبی صاحب نے بھی اشتہار مباحثہ کے لئے شائع کیا کہ میں مباحثہ کے لئے تیار ہوں۔جس کو علم کا دعوی ہو وہ مجھ سے مباحثہ کر لے۔اسی عرصہ میں امرتسر سے یا لاہور سے خط آیا وہ خط مولوی صاحب کے نام تھا لکھا تھا کہ خواہ تم یا مرزا یا اور کوئی ہو ایک آیت عیسی علیہ السلام کی وفات میں پیش کرے تو میں پچاس روپے انعام دوں گا۔بلکہ جتنی آیتیں ہوں گی فی آیت پچاس روپے انعام دیئے جاویں گے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں مولوی غلام نبی صاحب نے یہ خط پیش کیا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس خط کو پڑھ کر فرمایا کہ اس شخص کو لکھ دو کہ ہم تمیں آیتیں قرآن شریف کی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات میں دیں گے۔تم کو مناسب ہے کہ اپنے اقرار کے بموجب پچاس روپے فی آیت کے حساب سے پندرہ سو روپیہ لاہور کے بنک میں جمع کرا کر سرکاری رسید بھیج دو۔اب جھوٹے کی کہاں طاقت تھی۔جواب ندارد۔پھر مولوی غلام نبی صاحب نے ایک