حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 20 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 20

حیات احمد جلد سوم کی ایک فہرست تیار کر کے اور چھپوا کر ایک ایک کاپی اس کی تمام بیعت کرنے والوں کی خدمت میں بھیجی جائے اور پھر جب دوسرے وقت میں نئی بیعت کر نیوالوں کا ایک معتد بہ گروہ ہو جاوے تو ایسا ہی ان کے اسماء کی بھی فہرست تیار کر کے تمام مبائعین یعنی داخلین بیعت میں شائع کی جائے اور ایسا ہی ہوتا رہے جب تک ارادہ الہی اپنے اندازہ مقدرہ تک پہنچ جائے یہ انتظام جس کے ذریعہ سے راستبازوں کا گروہ کثیر ایک ہی سلک میں منسلک ہو کر وحدت مجموعی کے پیرائے میں خلق اللہ پر جلوہ نما ہو گا اور اپنی سچائی کی مُختلف المخرج شعاؤں کو ایک ہی خط ممتد میں ظاہر کرے گا خداوند عز و جل کو بہت پسند آیا ہے۔مگر چونکہ یہ کارروائی بجز اس کے بآسانی وصحت انجام پذیر نہیں ہو سکتی کہ خود مبائعین اپنے ہاتھ سے خوشخط قلم سے لکھ کر اپنا نام پتہ ونشان به تفصیل مندرجہ بالا بھیج دیں اس لئے ہر ایک صاحب کو جو صدق دل اور خلوص تام سے بیعت کرنے کیلئے مستعد ہیں تکلیف دی جاتی ہے کہ وہ بحر یر خاص اپنی پورے پورے نام وولد بیت وسکونت مستقل و عارضی وغیرہ سے اطلاع بخشیں یا اپنے حاضر ہونے کے وقت یہ تمام امور درج کرا دیں۔اور بقیہ حاشیہ۔بالطبع بری معلوم ہوتی ہے جیسے وہ خود خدائے تعالیٰ کی نظر میں بری ومکروہ ہے اور نہ صرف خلق اللہ سے انقطاع میسر آتا ہے بلکہ بجز خالق و مالک حقیقی ہر ایک موجود کو کالعدم سمجھ کر فنا نظری کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔سواس نور کے پیدا ہونے کے لئے ابتدائی اِتقا جس کو طالب صادق اپنے ساتھ لاتا ہے شرط ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی علت غائی بیان کرنے میں فرمایا ہے هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ۔یہ نہیں فرمایا هُدًى للْفَاسِقِيْنَ يَاهُدًى لِّلْكَفِرِينَ ابتدائی تقویٰ جس کے حصول سے متقی کا لفظ انسان پر صادق آ سکتا ہے وہ ایک فطرتی حصہ ہے کہ جو سعیدوں کی خلقت میں رکھا گیا ہے اور ربوبیت اولی اس کی مربی اور وجود بخش ہے جس سے متقی کا پہلا تو لد ہے۔مگر وہ اندرونی نور جو روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے۔وہ عبودیت خالصہ نامہ اور ربوبیت کاملہ مُسْتَجْمَعَہ کے پورے جوڑ واتصال سے بطرز ثُمَّ اَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا اخَرَ کے پیدا ہوتا ہے اور یہ ربوبیت ثانیہ ہے جس سے متقی تولد ثانی پاتا ہے اور ملکوتی مقام پر پہنچتا ہے اور اس کے بعد ربوبیت ثالثہ کا درجہ ہے جو خلق جدید سے موسوم ہے جس سے متقی لا ہوتی مقام پر پہنچتا ہے اور تولد ثالث پاتا ہے۔فَتَدَبّر منه