حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 226 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 226

حیات احمد ۲۲۶ جلد سوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام بھیجا چنانچہ وہ حدیث شریف یہ ہے کہ مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيَقُلْهُ مِنِّي السَّلامَ مولوی صاحب یہ حدیث پڑھ کر حضرت اقدس علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو گئے۔اور آپ کے سامنے یہ حدیث شریف دوبارہ بڑے زور سے پڑھی اور عرض کیا کہ میں اس وقت بموجب حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلام کا سلام کہتا ہوں۔اور میں بھی اپنی طرف سے اسی حیثیت کا جو سلام کہنے والے نے سلام کہا اور جس کو جس حیثیت سے کہا گیا سلام کہتا ہوں حضرت اقدس علیہ السلام نے اس وقت ایک عجیب لہجہ اور عجیب آواز سے وعلیکم السلام فرمایا کہ دل سننے کی تاب نہ لائے اور مولوی صاحب مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے۔اس وقت حضرت اقدس علیہ السلام کے چہرہ مبارک کا بھی اور ہی نقشہ تھا۔جس کو میں پورے طور سے تحریر میں نہیں بیان کر سکتا۔حاضرین و سامعین کا بھی ایک عجیب سرور سے پُر حال تھا۔پھر مولوی صاحب نے کہا کہ اولیاء، علماء امت نے سلام کہلا بھیجا اور اس کے انتظار میں چل جیسے آج اللہ تعالیٰ کا نوشتہ اور وعدہ پورا ہوا۔یہ غلام نبی اس کو کیسے چھوڑے یہ مسیح موعود ہیں اور یہی امام مہدی موعود ہیں ، یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ اور مسیح ابن مریم موسوی مر گئے ، مر گئے ، مر گئے، بلا شک مر گئے۔وہ نہیں آئیں گے۔آنے والے آگئے ، آگئے ، آگئے ، بے شک وشبہ آ گئے۔تم جاؤ یا میری طرح سے آپ کے مبارک قدموں میں گرو تا کہ نجات پاؤ اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور رسول تم سے خوش ہو۔منتظرین بیرون در کو جب یہ پیغام مولوی صاحب کا پہنچا۔کیا مولوی ملا اور کیا خاص اور عام سب کی زبان سے کافر کافر کافر کا شور بلند ہوا۔اور گالیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی اور سب لوگ تتر بتر منتشر ہو گئے اور بُرا کہتے ہوئے ادھر اُدھر گلیوں میں بھاگ گئے جو کہتے کہ مرزا صاحب جادوگر ہے ان کی چڑھ بنی۔مولوی صاحبان شرم کے مارے گردن نیچی کئے ہوئے کہتے چلے جاتے تھے کہ غلام نبی ایک