حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 222
حیات احمد ۲۲۲ جلد سوم میں نے میرزا صاحب کی شکایت کی یا کسی دوست سے آپ کی نسبت کچھ کہا ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں معافی مانگتا ہوں۔المعلـ میر ناصر نواب نقشه نو لیس دہلوی حضرت مولوی غلام نبی صاحب خوشابی کی بیعت حضرت مولوی غلام نبی صاحب خوشابی ایک مسلم فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ تھے خوشاب ضلع جہلم کے باشندے تھے۔باوجود اپنے علم و فضل کے اللہ تعالیٰ نے انہیں قلب سلیم عطا فرمایا تھا۔انہیں ایام میں وہ لو دھانہ آئے ہوئے تھے جبکہ مخالفت خوب زوروں پر تھی اور وہ علماء لودھانہ کے جوش مخالفت کو دیکھ کر خود بھی اس میدان میں اترے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی اور انہوں نے حق کو پا لیا اس کی تفصیل حضرت صاحب زادہ سراج الحق صاحب اس طرح پر بیان کرتے ہیں۔الغرض لودھیا نہ شہر میں مولوی غلام نبی صاحب خوشابی کی دھوم مچ گئی اور جا بجا ان کے علم و فضل کا چرچا ہونے لگا۔اور مولوی غلام نبی صاحب نے بھی حضرت اقدس علیہ السلام کی مخالفت میں کوئی بات اٹھا نہیں رکھی۔اور آیتوں پر آیتیں اور حدیثوں پر حدیثیں ہر وعظ میں مسیح علیہ السلام کی حیات کی نسبت پڑھنے لگے۔خدا کی قدرت کے قربان حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے چلے آپ ہی قتل ہو گئے۔اور پھر آپ کا وجود باجود آیت اللہ ٹھہرا اور فاروق اعظم کہلائے۔اور اَلشَّيْطَانُ يَفِرُّ مِنْ ظِلِّ الْعُمَر اللہ کے پیارے نے فرمایا اور خود اللہ ن رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ فرمایا، ایک روز اتفاق سے اسی محلہ میں کہ جس محلہ میں حضرت اقدس علیہ السلام تشریف فرما تھے مولوی صاحب کا وعظ تھا ہزاروں آدمی جمع تھے۔اور اس وعظ میں جتنا علم تھا وہ سب ختم کر دیا اور لوگوں کے تحسین و آفرین کے نعرے لگنے لگے۔اور