حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 221
حیات احمد ۲۲۱ جلد سوم وحی سے ظاہر ہے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نہ صرف یہ کہ اہل حدیث تھے بلکہ مولوی محمدحسین صاحب کے بھائی شیخ محمد علی صاحب (المعروف علی بخش ) کے شاگرد بھی تھے چونکہ نہایت صاف باطن اور حنیف مسلم تھے جب تک حضرت صاحب کے دعاوی کی سمجھ نہ آئی اور مولوی محمد حسین صاحب کے زیر اثر تھے۔مخالفت بھی کرتے رہے۔اور مولوی محمد حسین صاحب بڑے فخر سے ان کے مخالفانہ کلام کو شائع کرتے رہے اس مباحثہ کے بعد ان پر حقیقت کھل گئی اور وہ سلسلہ میں تو بہ کر کے داخل ہو گئے خود ان کا اپنا بیان سن لیجئے۔اع إنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ـلان جو کہ یہ عاجز عرصہ تین سال سے عزیزم میرزا غلام احمد صاحب پر بدگمان تھا۔لہذا وقتاً فوقتاً نفس و شیطان نے خدا جانے کیا کیا اُن کے حق میں مجھ سے کہلوایا۔جس پر آج مجھ کو افسوس ہے اگر چہ اس عرصہ میں کئی بار میرے دل نے مجھے شرمندہ بھی کیا لیکن اس کے اظہار کا یہ وقت مقدر تھا۔باعث اس تحریر کا یہ ہے کہ ایک شخص نے مرزا صاحب کو خط لکھا کہ میں تم سے موافقت کیونکر کروں تمہارے رشتہ دار ( یعنی یہ عاجز ) تم سے برگشتہ و بدگمان ہیں اس کو سن کر مجھے سخت ندامت ہوئی اور ڈرا کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں اپنے گناہوں کے علاوہ دوسروں کے نہ ماننے کے وبال میں پکڑا جاؤں لہذا یہ اشتہار دے کر میں بری الذمہ ہوتا ہوں۔میں نے جو کچھ مرزا صاحب کو فقط اپنی غلط فہمیوں کے سبب سے کہا نہایت بُرا کیا۔اب میں تو بہ کرتا ہوں اور اس تو بہ کا اعلان اس لئے دیتا ہوں کہ میری پیروی کے سبب سے کوئی وبال میں نہ پڑے اب سب لوگ جان لیں کہ مجھے کسی طرح کی بدگمانی میرزا صاحب پر نہیں۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغ۔اس سے بعد اگر کوئی شخص میری کسی تحریر یا تقریر کو چھپوا دے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو میں عند اللہ بری ہوں۔اور اگر کبھی البقرة: ٢٢٣