حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 220
حیات احمد جلد سوم در حقیقت مولوی محمد حسین صاحب اور اُن کے ہم خیال فاضل اور واقعی طور پر محدث اور مفسر اور رموز اور دقائق قرآنِ کریم اور احادیث نبویہ کے سمجھنے والے ہیں۔اگر ثابت نہ کر سکے تو پھر یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ لوگ دقائق و حقائق بلکہ سطحی معنوں قرآن اور حدیث کے سمجھنے سے بھی قاصر اور سراسر غبی اور بلید ہیں۔اور ور پر وہ اللہ اور رسول کے دشمن ہیں کہ محض الحاد کی راہ سے واقعی اور حقیقی معنوں کو ترک کر کے اپنے گھر کے ایک نئے معنے گھڑتے ہیں۔ایسا ہی اگر کوئی یہ ثابت کر دکھاوے که قرآن کریم کی وہ آیتیں اور احادیث جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کوئی مردہ دنیا میں واپس نہیں آئے گا۔قطعی الدلالت نہیں اور نیز بجائے لفظ موت اور امانت کے جو متعدد المعنیٰ ہے اور نیند اور بے ہوشی اور کفر اور ضلالت اور قریب الموت ہونے کے معنوں میں بھی آیا ہے توفی کا لفظ کہیں دکھاوے مثلاً یہ کہ تَوَفَّاهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ تو ایسے شخص کو بھی بلا توقف ہزار روپیہ نقد دیا جاوے گا۔اس مباحثہ کے ثمرات تهر خاکسار غلام احمد از لودھیانہ محلہ اقبال گنج ( مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۲۰۵ تا ۵۰۷ - طبع بار دوم ) مباحثہ کی کامیابی یا ناکامی کا ایک بین ثبوت اُس کے ثمرات بھی ہوتے ہیں اس مباحثہ کے بعد لوگوں کا رجوع حضرت کی طرف ہونے لگا۔اور ان میں وہ لوگ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں جو مولوی محمد حسین صاحب کے ہم مذہب تھے یعنی اہلحدیث اور ان کے یا مولوی محمد حسن صاحب رئیس لودھانہ کے زیر اثر تھے۔ان میں سب سے نمایاں شخصیت حضرت میر ناصر نواب صاحب کی تھی جن کے ساتھ حضرت اقدس کے میری تعلقات تھے اور جس خاندان کی عظمت خدا تعالیٰ کی