حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 219 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 219

حیات احمد ۲۱۹ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کے کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کر لوں گا۔ایسا ہی اگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یا اُن کا کوئی ہم خیال یہ ثابت کر دیوے کہ الدَّجال کا لفظ جو بخاری اور مسلم میں آیا ہے۔بجز دجال معہود کے کسی اور دقبال کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے تو مجھے اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں ایسے شخص کو بھی جس طرح ممکن ہو ہزار روپیہ نقد بطور تاوان کے دوں گا۔چاہیں تو مجھ سے رجسٹری کرا لیں یا تمسک لکھا لیں۔اس اشتہار کے مخاطب خاص طور پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں جنہوں نے غرور اور تکبر کی راہ سے یہ دعوی کیا ہے کہ توفی کا لفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنی پورا لینے کے ہیں یعنی جسم اور روح کو بہ ہیئت کذائی زندہ ہی اٹھا لینا اور وجود مرکب جسم اور روح میں سے کوئی حصہ متروک نہ چھوڑ نا بلکہ سب کو بہ حیثیت کذائی اپنے قبضہ میں زندہ اور صحیح سلامت لے لینا۔سو اس معنے سے انکار کر کے یہ شرطی اشتہار ہے۔ایسا ہی محض نفسانیت اور علوم واقفیت کی راہ سے مولوی محمد حسین صاحب ن الدجال کے لفظ کی نسبت جو بخاری اور مسلم میں جابجا دجال معہود کا ایک نام ٹھہرایا گیا ہے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ الدَّجال ، دجال معہود کا خاص طور پر نام نہیں بلکہ ان کتابوں میں یہ لفظ دوسرے دجالوں کے لئے بھی مستعمل ہے اور اس دعوی کے وقت اپنی حدیث دانی کا بھی ایک لمبا چوڑا دعویٰ کیا ہے۔سو اس وسیع معنى الدجال سے انکار کر کے اور یہ دعویٰ کر کے کہ یہ لفظ الدجال کا صرف دجال معہود کے لئے آیا ہے اور بطور علم کے اس کے لئے مقرر ہو گیا ہے یہ شرطی اشتہار جاری کیا گیا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب اور اُن کے ہم خیال علماء نے لفظ تــو فــی اور الدجال کی نسبت اپنے دعوی متذکرہ بالا کو بپایہ ثبوت پہنچا دیا تو وہ ہزار روپیہ لینے کے مستحق ٹھہریں گے اور نیز عام طور پر یہ عاجز یہ اقرار بھی چند اخباروں میں شائع کر دے گا کہ جلد سوم