حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 218 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 218

حیات احمد ۲۱۸ پر دو موتیں کسی پر واقع ہوتی ہیں اور نہ قرآن کریم میں واپس آنے والوں کے لئے کوئی قانونِ وراثت موجود ہے۔بایں ہمہ بعض علماء وقت کو اس بات پر سخت غلو ہے که مسیح ابن مریم فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ ہی آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور حیات جسمانی دنیوی کے ساتھ آسمان پر موجود ہے۔اور نہایت بیبا کی اور شوخی کی راہ سے کہتے ہیں کہ توفی کا لفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنے وفات دینا نہیں ہے بلکہ پورا لینا ہے یعنی یہ کہ روح کے ساتھ جسم کو بھی لے لینا۔مگر ایسے معنے کرنا اُن کا سراسر افترا ہے۔قرآن کریم کا عموماً التزام کے ساتھ اس لفظ کے بارے میں یہ محاورہ ہے کہ وہ لفظ قبض روح اور وفات دے دینے کے معنوں پر ہر یک جگہ اس کو استعمال کرتا ہے۔یہی محاورہ تمام حدیثوں اور جمیع اقوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پایا جاتا ہے۔جب سے دنیا میں عرب کا جزیرہ آباد ہوا ہے اور زبان عربی جاری ہوئی ہے کسی قول قدیم یا جدید سے ثابت نہیں ہوتا کہ توفی کا لفظ کبھی قبض جسم کی نسبت استعمال کیا گیا ہو بلکہ جہاں کہیں تو قی کے لفظ کو خدائے تعالیٰ کا فعل ٹھہرا کر انسان کی نسبت استعمال کیا گیا ہے وہ صرف وفات دینے اور قبض روح کے معنی پر آیا ہے نہ قبض جسم کے معنوں میں، کوئی کتاب لغت کی اس کے مخالف نہیں۔کوئی مثل اور قول اہلِ زبان کا اس کے مغائر نہیں۔غرض ایک ذرہ احتمال مخالف کی گنجائش نہیں۔اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم سے یا اشعار و قصائد و نظم و نثر قدیم و جدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجر قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جَلَّ شَانُہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ جلد سوم