حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 19 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 19

حیات احمد ۱۹ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي جلد سوم گزارش ضروری بخدمت ان تمام صاحبوں کے جو بیعت کرنے کیلئے مستعد ہیں اے اخوان مومنین أَيَّدَ كُمُ اللهُ بِرُوحِ مِّنْهُ ) آپ سب صاحبوں پر جو اس عاجز سے خالصاً لطلب اللہ بیعت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کے واضح ہو کہ بالقائے ربّ کریم و جلیل جس کا ارداہ ہے کہ مسلمانوں کو انواع و اقسام کے اختلافات اور غِل اور حقد اور نزاع اور فساد اور کینہ اور بغض سے جس نے ان کو بے برکت ونكما وکمزور کر دیا ہے نجات دے کر فَأَصْبَحْتُمُ بِنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا کا مصداق بنا دے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض فوائد ومنافع بیعت کہ جو آپ لوگوں کے لئے مقدر ہیں اس انتظام پر موقوف ہیں کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مبارکہ ایک کتاب میں بقید ولدیت و سکونت مستقل و عارضی اور کسی قدر کیفیت کے (اگر ممکن ہو ) اندراج پاویں اور پھر جب وہ اسماء مندرجہ کسی تعداد موزوں تک پہنچ جائیں تو ان سب ناموں لے تاریخ ہذا سے جو مارچ ۱۸۸۹ء ہے ۲۵ مارچ تک یہ عاجز لودیانہ محلہ جدید میں مقیم ہے اس عرصہ میں اگر کوئی صاحب آنا چاہیں تو لودیا نہ میں ۲۰ تاریخ کے بعد آجاویں۔اور اگر اس جگہ آنا موجب حرج و دقت ہو تو ۲۵ مارچ کے بعد جس وقت کوئی چاہے قادیان میں بعد اطلاع دہی بیعت کرنے کیلئے حاضر ہو جاوے مگر جس مدعا کے لئے بیعت ہے یعنی حقیقی تقوی اختیار کرنا اور سچا مسلمان بننے کے لئے کوشش کرنا اس مد عا کوخوب یادر کھے اور اس وہم میں نہیں پڑنا چاہئے کہ اگر تقویٰ اور سچا مسلمان بنا پہلے ہی سے شرط ہے تو پھر بعد اس کے بیعت کی کیا حاجت ہے۔بلکہ یاد رکھنا چاہئے کہ بیعت اس غرض سے ہے کہ تا وہ تقویٰ کہ جو اؤل حالت میں تکلیف اور تصنع سے اختیار کی جاتی ہے دوسرا رنگ پکڑے اور ببرکت توجہ صادقین و جذ بہ کاملین طبیعت میں داخل ہو جائے اور اُس کا جز بن جائے۔اور وہ مشکوتی نور دل میں پیدا ہو جائے کہ جو عبودیت اور ربوبیت کے باہم تعلق شدید سے پیدا ہوتا ہے جس کو متصو فین دوسرے لفظوں میں رُوح قدس بھی کہتے ہیں جس کے پیدا ہونے کے بعد خدائے تعالیٰ کی نافرمانی ایسی ال عمران: ۱۰۴