حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 214
حیات احمد ۲۱۴ جلد سوم یہ ایک ہی دلیل مخلوق پرستوں کے ابطال کے لئے کروڑ دلیل سے بڑھ کر ہے کہ جن بزرگوں اور لوگوں کو وہ خدا بنائے بیٹھے ہیں وہ فوت ہو چکے ہیں اور اب وہ فوت شدہ ہیں زندہ نہیں ہیں۔اگر وہ خدا ہوتے تو ان پر موت وارد نہ ہوتی یقینا سمجھنا چاہئے کہ وہ لوگ جو ایک عاجز انسان کو الہ العالمین قرار دیتے ہیں وہ صرف ایک ہی ثبوت ہم سے مانگتے ہیں کہ ہم ان کے اس معبود کا مردہ ہونا اور اموات میں داخل ہونا ثابت کر دیں۔کیونکہ کوئی دانا مردہ کو خدا بنا نہیں سکتا۔اور تمام عیسائی بالا تفاق اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص حضرت مسیح ابن مریم کا مرکز پھر مردہ رہنا ثابت کر دے تو ہم یکلخت عیسائی مذہب کو چھوڑ دیں گے، لیکن افسوس کہ ہمارے گزشتہ علماء نے عیسائیوں کے مقابل پر کبھی اس طرف توجہ نہ کی حالانکہ اس ایک ہی بحث میں تمام بحثوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔دنیا میں ایسا نادان کون ہے کہ کسی مردہ کا نام اله الْعَالَمِيْن رکھے۔اور جو مر چکا ہے اس میں حَيٌّ لَا يَمُوت کی صفات قائم کرے۔عیسائی مذہب کا ستون جس کی پناہ میں انگلستان اور جرمن اور فرانس اور امریکہ اور روس وغیرہ کے عیسائی رَبُّنَا الْمَسِیح کہہ رہے ہیں۔صرف ایک ہی بات ہے اور وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے مسلمانوں اور عیسائیوں نے برخلاف کتاب الہی یہ خیال کر لیا ہے که صیح آسمان پر مدت دراز سے بقید حیات چلا آتا ہے۔اور کچھ شک نہیں کہ اگر یہ بقیہ حاشیہ۔گی تو تثلیت کا ماننا غیر ضروری ٹھہرا۔یہ سوال تو شائع ہو گیا۔مگر اس پر ایک بحث سلسلہ اخبار میں شروع ہو گیا۔رحمت مسیح واعظ فارو والی نے ایک رسالہ مبشر نکالا تھا۔اس میں الحق کندی کے مضامین شروع کئے تھے۔اور ان میں توحید پر بحث تھی۔پس انہوں نے سوال پر سوال کیا کہ توحید کس قسم کی آپ مانتے ہیں۔میرا جواب شائع ہوا۔پھر پادری جوالا سنگھ کو دیئے۔آخر پادری نیوٹن نے منشی حسن علی سفیر پر زور ڈال کر اس سلسلہ کو بند کرا دیا۔پادری طالب اور پادری غلام مسیح انہیں ایام میں عیسائی ہوئے تھے اور میں اُن سے بھی گفتگو کرتا تھا۔غرض یہ ایک لمبا سلسلہ ہے پھر کبھی بیان کروں گا۔یہاں ذکر نورافشاں کی وجہ سے کر دیا۔