حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 17 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 17

حیات احمد ۱۷ جلد سوم رہ گئے جن کی فطرتیں ہمارے ساتھ رہنے کے لائق تھیں۔اور جو فطرتا قوی الایمان نہیں تھے اور تھکے اور ماندے تھے وہ سب الگ ہو گئے اور شکوک وشبہات میں پڑ گئے۔پس اسی وجہ سے ایسے موقع پر دعوت بیعت کا مضمون شائع کرنا نہایت چسپاں معلوم ہوا۔تا خس کم جہاں پاک کا فائدہ ہم کو حاصل ہو اور مغشوشین کے بدانجام کی تلخی اٹھائی نہ پڑے اور تا جولوگ اس ابتلاء کی حالت میں اس دعوت بیعت کو قبول کر کے اس سلسلہ مبارکہ میں داخل ہو جا ئیں وہی ہماری جماعت سمجھے جائیں اور وہی ہمارے خالص دوست متصور ہوں اور وہی ہیں جن کے حق میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں انہیں ان کے غیروں پر قیامت تک فوقیت دوں گا اور برکت اور رحمت بقیہ حاشیہ۔کرے گا جب تک اپنے وعدہ کو پورا نہ کر لے۔مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ شعر جاری ہوا تھا اے فخر رسل قرب تو معلوم شد دیر آمده ز ره دور آمده پس اگر حضرت باری جل شانہ کے ارادہ میں دیر سے مراد اسی قدر ہے جو اس پسر کے پیدا ہونے میں جس کا نام بطور تفاول بشیر الدین محمود رکھا گیا ہے ظہور میں آئی تو تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعو دلڑکا ہو۔ورنہ وہ ا بفضلہ تعالیٰ دوسرے وقت پر آوے گا اور ہمارے بعض حاسدین کو یا درکھنا چاہئے کہ ہماری کوئی ذاتی غرض اولاد کے متعلق نہیں اور نہ کوئی نفسانی راحت ان کی زندگی سے وابستہ ہے۔پس یہ ان کی بڑی غلطی ہے کہ جو انہوں نے بشیر احمد کی وفات پر خوشی ظاہر کی اور بغلیں بجائیں انہیں یقیناً یا د رکھنا چاہئے کہ اگر ہماری اتنی اولاد ہو جس قدر درختوں کے تمام دنیا میں پتے ہیں اور وہ سب فوت ہو جائیں تو ان کا مرنا ہماری سچی اور حقیقی لذت اور راحت میں کچھ خلل انداز نہیں ہو سکتا مُمیت کی محبت میت کی محبت سے اس قدر ہمارے دل پر زیادہ تر غالب ہے کہ اگر وہ محبوب حقیقی خوش ہو تو ہم خلیل اللہ کی طرح اپنے کسی پیارے بیٹے کو بدست خود ذبح کرنے کو تیار ہیں کیونکہ واقعی طور پر بجز اس ایک کے ہمارا کوئی پیارا نہیں۔جَلَّ شَانُهُ وَعَزَّ اسْمُهُ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى إِحْسَانِهِ - منه ترجمہ۔اے فخر رسل مجھے تیرے قرب الہی کا ( بلند مرتبہ ) معلوم ہو گیا ہے، تو اس لئے دیر سے پہنچا ہے کہ بہت دور سے آیا ہے۔