حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 188 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 188

حیات احمد ۱۸۸ ۱۴ حضرت عیسی مسیح ابن مریم عَلى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَوةُ وَالسَّلام در حقیقت فوت ہوگئے ہیں۔اور دوسرے مردوں کی طرح جنودار واح گزشتہ میں داخل ہیں پھر اس عالم میں کسی طرح سے نہ آئیں گے اور اس زمانہ کے لئے جس مسیح کی روحانی طور پر آنے کی خبر قرآن شریف اور احادیث صحیحہ میں دی گئی ہے وہ مسیح موعود میں ہوں۔مرزا صاحب اور ان کی جماعت قرآن شریف کی آیتیں بکثرت پیش کرتے ہیں۔اور اقوال صحابہ اپنی تائید دعوی میں لاتے ہیں اور اس دعوی کے ثبوت میں تین کتابیں ایک فتح اسلام، دوسری توضیح مرام، تیسری ازالہ اوہام بڑی شد و مد سے شرح وبسط سے تصنیف کی ہیں۔اور روز بروز ان کے سلسلہ کو ترقی ہے اور معتبر طور سے معلوم ہے کہ چوداں عالم فاضل متبحر آج تک ان کی جماعت میں داخل ہو گئے ہیں۔یہ عجیب انقلاب دیکھ کر حق کی طالب نہایت حیرت میں ہیں کہ ایک طرف تو ان کی جماعت ترقی پر ہے اور دوسری طرف مشاہیر علماء اور اکا بر صوفیہ کنارہ کش ہیں۔اگر کوئی مولویوں میں سے بحث کرنے کے لئے آتا بھی ہے تو مغلوب ہو کر ایک طور سے اور بھی زیادہ ان کے سلسلہ کو تائید پہنچاتا ہے جیسا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو پنجاب میں مشہور عالم ہیں بحث کرنے کے لئے آئے جس کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی کمزوری اور گریز کو دیکھ کر اور بھی کئی شخص ان کی جماعت میں داخل ہو گئے اور ایک بڑی خجالت کی یہ بات ہوئی کہ مرزا صاحب نے روحانی طور پر بھی ایک تصفیہ کی درخواست کی کہ تم بھی دعا کرو اور ہم بھی دعا کریں تا مقبول اور اہل حق کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر ہو، لیکن مولوی محمد حسین صاحب نے اس طرف رُخ بھی نہ کیا۔اب التماس یہ ہے کہ آپ اکا بر جلیل القدرصوفیاء اور صاحب عرفان اور صاحب سلسلہ اور فاضل اور مشاہیر علماء سے ہیں۔آپ سے بڑھ کر اور کس کا حق ہے کہ دونوں طریق سے یعنی ظاہری اور باطنی طور پر آپ مرزا غلام احمد صاحب سے مقابلہ اور جلد سوم