حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 16
حیات احمد ۱۶ جلد سوم چل سکتا ہے اپنی خداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔دہم یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض لله با قرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا۔اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقات اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔یہ وہ شرائط ہیں کہ جو بیعت کرنے والوں کیلئے ضروری ہیں جن کی تفصیل یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں نہیں لکھی گئی۔اور واضح رہے کہ اس دعوت بیعت کا حکم تخمینا مدت دس سال سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا ہے۔لیکن اس کی تاخیر اشاعت کی یہ وجہ ہوئی ہے کہ اس عاجز کی طبیعت اس بات سے کراہت کرتی رہی کہ ہر قسم کے رطب و یا بس لوگ اس سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں۔اور دل یہ چاہتا رہا کہ اس مبارک سلسلہ میں وہی مبارک لوگ داخل ہوں جن کی فطرت میں وفاداری کا مادہ ہے۔اور جو کچے اور سریع التغیر اور مغلوب شک نہیں ہیں۔اس وجہ سے ایک ایسی تقریب کی انتظار رہی کہ جو بچوں اور کچوں اور مخلصوں اور منافقوں میں فرق کر کے دکھلا دے۔سو اللہ جل شانہ نے اپنی کمال حکمت اور رحمت سے وہ تقریب بشیر احمد کی موت کو قرار دے دیا۔اور خام خیالوں اور کچوں اور بدظنوں کو الگ کر کے دکھلا دیا۔اور وہی ہمارے ساتھ خدائے عز وجل نے جیسا کہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء واشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے۔اپنے لطف وکرم سے وعدہ دیا تھا کہ بشیر اول کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہوگا اور اس عاجز کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ وہ اولوا العزم ہوگا۔اور حسن واحسان میں تیرا نظیر ہوگا۔وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔سو آ ج ۱۲ / جنوری ۱۸۸۹ء میں مطابق ۹ر جمادی الاول ۱۳۰۶ھ روز شنبہ میں اس عاجز کے گھر میں بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہو گیا ہے جس کا نام محض تفاؤل کے طور پر بشیر اور محمود بھی رکھا گیا ہے۔اور کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی جائے گی مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہ لڑ کا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا وہ کوئی اور ہے لیکن میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا۔اور اگر ابھی اس موعود دلڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا تو دوسرے وقت میں وہ ظہور پذیر ہو گا۔اور اگر مدت مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خدائے عز وجل اُس دن کو ختم نہیں