حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 159
حیات احمد ۱۵۹ جلد سوم صاحب کو بحث کے لئے وکیل مقرر کر دیں۔اس اشتہار نے اس شعر کے مطابق خاکسار کے نائرہ اشتیاق مباحثہ کو جو مرزا جی کے خط نمبری (۱۰) سے وہ دب گیا تھا مشتعل کر دیا۔اور اس وقت مجھے وہ سفر ہندوستان جس کا ذکر بارہا ہو چکا ہے نیز در پیش تھا بِنَاءً عَلَیہ خاکسار نے مولوی محمد حسن صاحب کے نام رقعہ مندرجہ ذیل تحریر کیا۔لا ہور۔۸ رمئی ۱۸۹۱ء۔محبتی مولوی محمد حسن صاحب نمبر ۳۲۳۔السلام علیکم۔آج میں نے مرزا کا آخری اشتہار دیکھا اس میں آپ کو لکھا ہے کہ چا ہو تو مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کو وکیل بنا کر پیش کرو۔اور اس کے ساتھ ایسی شرطیں بھی لگا دی ہیں جو جلد وقوع میں نہ آئیں۔میری یہ رائے ہے کہ آپ ان کو ( مرزا جی ) اس مضمون کا رقعہ لکھیں کہ 9 مئی کی صباح کو ابوسعید محمدحسین بارادہ پٹیالہ لودھا نہ پہنچیں گے۔آپ ان سے بات چیت کر سکیں تو آپ میرے مکان پر تشریف لے آویں آپ نہ آسکیں تو ہم اُن کو آپ کے مکان پر لے آویں گے اور اس مجلس میں جس کو آپ چاہیں شامل کر لیں اور اور شروط کو جن کا تحقق سر دست دشوار ہے پیش نہ کریں۔وہ اس امر کو منظور کریں تو بندہ گفتگو کے لئے حاضر ہے۔ابوسعید محمد حسین اس خط کے لودھانہ میں پہنچ جانے کے بعد خاکسار بھی 9 مئی کی صبح کولو دھانہ پہنچ گیا۔اور جاتے ہی مولوی محمد حسن کو مرزا جی کے پاس بطور سفارت بھجوایا۔اور انہی کی طرف سے رقعہ مندرجہ ذیل لکھوا کر اُن کے ہاتھ میں دیا اور یہ کہہ دیا کہ آپ کی سفارت کے جواب میں جو کچھ مرزا صاحب کہیں وہ تحریر میں لاویں زبانی کوئی پیام و کلام مسموع نہ ہو گا۔وہ رقعہ چونکہ خاکسار ہی نے لکھوایا تھا۔لہذا اپنے رجسٹر خطوط کا نمبر اُس پر لگایا جاتا ہے اور جو خط اس کے جواب میں مرزا صاحب کا آیا اس پر بھی ان کے سلسلہء خطوط کا نمبر لگایا گیا ہے۔وہ خط یہ ہے لودہا نہ ۹ رمئی ۱۸۹۱ء نمبر ۳۶۹ بخدمت شریف مرزا صاحب۔بعد سلام مسنون کے گزارش ہے کہ آپ نے اشتہار مطبوعہ