حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 13 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 13

حیات احمد جلد سوم ہو سکتے بلکہ مشیت ایزدی کا اظہار ہیں۔اس قدر بیان میں نے بطور تمہید لکھا ہے تاکہ سلسلہ کی بنیادی تاریخ سمجھ میں آجاوے۔بیعت کے لئے اعلان ۱۸۸۸ء ابتلاؤں اور مخالفت عامہ کا سال تھا اور جیسے ابر رحمت کے برسنے سے پہلے بڑی گرج ہوتی ہے اس طرح پر الہی سلسلہ میں بڑے ابتلاؤں اور شورشوں کے بعد اللہ تعالیٰ کے انعام کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے عشق اول سرکش و خونی بود تا گریزد هر که بیرونی بود ہر موعود مبشر کی پیدائش سے پہلے ایسے ہی طوفان برپا ہوئے اور بالآخر جب وہ مولود موعود رحم مادر میں آچکا اور اس کے ظہور کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیعت کا حکم دیا۔یہ نہایت عجیب مطالعہ ہے اور اگر اس سلسلہ پر سلیم القلب لوگ غور کریں تو انہیں صاف معلوم ہو گا کہ یہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے۔چنانچہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو بشیر اول کی وفات پر معترضین کے جواب میں ایک اعلان شائع کیا اور عین اس وقت جب کہ اعتراضات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی آپ نے اسی تاریخ کو تبلیغ کے عنوان سے اعلان بیعت فرمایا جو یہ ہے۔تبلیغ ” میں اس جگہ ایک اور پیغام بھی خلق اللہ کو عموماً اور اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصاً پہنچاتا ہوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور کچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولی کا راہ سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کاہلانہ ترجمہ۔شروع میں عشق بہت منہ زور اور خونخوار ہوتا ہے، تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھاگ جائے۔