حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 153 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 153

حیات احمد ۱۵۳ جلد سوم خاکسار۔آپ کی تقریر سے یہ سمجھ میں آیا ہے کہ جن الفاظ نبوی یا کلمات قرآنی کے معنی عمل نبوی سے مفہوم نہ ہوئے ہوں۔ان الفاظ کے معنی لغوی میں تاویل جائز ہے۔اگر دلیل قوی ہو۔اس کا لازمہ یہ ہے کہ اگر اس تأویل پر کوئی دلیل نہ ہو تو وہ تاویل بھی ویسی ہی ناجائز ہے جیسے کہ عملی معنوں میں تاویل ناجائز ہے۔حکیم صاحب۔بہر حال یہ میرا مسلّم ہے۔خاکسار۔(۹) حقیقت مجاز سے مقدم ہے۔اور حقیقت کے علامات یہ ہیں (۱) معنی کا متبادر ہونا (۲) ایک امر جائز پر اس لفظ کا اطلاق (۳) اس کے نفی کی عدم صحت علامات مجاز اس کے مخالف یہ ہیں (۱) قرینہ کا وجود (۲) امر محال پر لفظ کا اطلاق (۳) نفی کی صحت۔حکیم صاحب۔مجھے کچھ معلوم نہیں کہ مولوی صاحب نے یہ اصطلاح سلف صالحین سے کہاں سے لی ہے۔خاکسار۔میں لفظی بحث کو ترک کر کے صرف اس کہنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ آپ نے پچھلے جواب میں تسلیم کیا ہے کہ لفظ کے ایسے معنی جس کو استعارہ کہا جاتا ہے قوی دلیل سے لئے جائیں گے بلا دلیل ایسے معنی نہ لئے جائیں گے۔پس میں انہیں معنی کو مجاز کہتا ہوں۔جن کو آپ نے استعارہ کہا ہے۔اور آپ کے جواب سابق سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کوئی استعارہ بلا دلیل قوی کسی لفظ سے مراد نہ ٹھہرائیں گے۔میرے لئے یہی تسلیم آپ کی کافی ہے اس معنی کو آپ مجاز کہیں یا نہ کہیں۔حکیم صاحب نے۔اس کے جواب میں کوئی عذر وانکار پیش نہیں کیا۔اور سکوت سے اس کو تسلیم فرمایا۔خاکسار (۱۰) محال اور مَجْهُولُ الكُنه میں فرق ہے۔اوّل کی تسلیم جائز نہیں۔دوسرے کی جائز ہے۔حکیم صاحب مسلّم ہے۔