حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 12
حیات احمد ۱۲ جلد سوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اثبات کا مطالبہ ہوتا ہے اور اسی سلسلہ میں متعدد تحریر میں آپ کی طرف سے شائع ہوتی ہیں۔بالآ خر آپ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہیں کہ ایک مستقل کتاب اس مضمون پر لکھیں اور اس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کے انعام کا چیلنج دیں۔اس لحاظ سے سلسلہ کی بنیاد تو اسی رویا سے شروع ہو جاتی ہے لیکن عملی طور پر جب کہ باضابطہ ایک نظام کے ماتحت جماعت احمدیہ کا قیام عمل میں آیا وہ ۱۸۸۹ ء ہی ہے دسمبر ۱۸۸۸ء میں آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعلانِ بیعت کیا جو اگر چہ میں پہلی جلد میں شائع کر چکا ہوں لیکن سلسلہ تألیف کو مرتب رکھنے کے لئے میں اسی سے آغاز کروں گا۔یہ امر بھی قابلِ اظہار ہے کہ براہین احمدیہ کی اشاعت کے ساتھ ہی بعض مخلصین نے بیعت کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا جیسا کہ حیات احمد کے سابق نمبروں میں دستاویزی شہادت سے میں لکھ آیا ہوں مگر آپ نے ہمیشہ یہ کہہ کر انکار کیا کہ میں بیعت لینے کے لئے مامور نہیں ہوا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تو آپ نے اس کے لئے اعلان کر دیا۔اس اعلان کی بنا پر میں کہتا ہوں کہ سلسلہ کی بنیا د رکھی گئی یہ اعلان تھا اس امر کا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک جماعت مخلصین کی تاسیس کا وقت آ گیا ہے۔ایک حقیقت کا اظہار یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس سلسلہ کی بنیاد دراصل ایک مبشر مولود کی ولادت سے وابستہ تھی اور وہ مبشر مولود وہ تھا جس کیلئے خود حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی جو حضرت مسیح موعود کی علامات خاصہ میں سے تھی کہ يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُلَهُ یعنی وہ شادی کرے گا اور اس سے مبشر اور موعود اولاد ہو گی۔اس طرح پر وہ عملی سنگ بنیاد تنظیم و تاسیس جماعت کا اس وقت تک معرض التوا میں رہا جب تک کہ وہ مبشر مولود پیدا نہ ہو گیا۔اس کی پیدائش ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو ہوئی اور اسی روز آپ نے اعلان بیعت کی (جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو شائع کیا گیا تھا) تکمیل کا اعلان شائع کیا۔یہ واقعات کا سلسلہ کسی خود ساختہ تجویز یا منصوبہ کا نتیجہ نہیں