حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 11
حیات احمد 11 جلد سوم کے ہاتھ میں آئی تو آنحضرت کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدر تربوز تھا۔آنحضرت نے جب اس میوہ کو قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اُس میں سے شہر نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا تب ایک مردہ جو دروازے سے باہر پڑا تھا آنحضرت کے معجزہ سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے آ کھڑا ہوا اور یہ عاجز آنحضرت کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرت بڑے جاہ وجلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبر دست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما رہے تھے پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے سے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دیدی اور اس نے وہیں کھالی پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کی کرسی مبارک متواتر چپکنے لگی کہ جو دینِ اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف بشارت تھی تب اس نور کو مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ “ براہین احمدیہ حصہ سوم حاشیه در حاشیہ صفحہ ۲۴۸، ۲۴۹ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ رویا آپ نے ایام طالب علمی میں دیکھی اس وقت کسی کتاب کی تصنیف اور تالیف کا آپ کو خیال تک بھی نہ تھا اور بعد کے واقعات نے بتایا کہ آپ مختصر ملازمت اور اپنی جائداد کے مقدمات میں مصروف ہو گئے چودہ پندرہ برس کے بعد ایک جدید سلسلہ پیدا ہوتا ہے اور آپ کو آریوں اور دوسرے مذاہب باطلہ کے لیڈروں سے مباحثات تحریری کا واقعہ پیش آ جاتا ہے اور آپ گوشہ گزینی سے نکل کر اس طرح پر پبلک میں آ جاتے ہیں اور آریوں کی طرف سے قرآن مجید کی حقانیت اور