حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 129
حیات احمد ۱۲۹ جلد سوم بالآخر ایک مثال بھی سنئے زید ایک مفقود الخبر ہے جس کے گم ہونے پر مثلاً دوسو برس گزر گیا۔خالد اور ولید کا اس کی حیات اور موت کی نسبت تنازع ہے۔اور خالد کو ایک خبر دینے والے نے خبر دی کہ در حقیقت زید فوت ہو گیا لیکن ولید اس خبر کا منکر ہے اب آپ کی کیا رائے ہے۔بار ثبوت کس کے ذمہ ہے کیا خالد کو موافق اپنے دعوی کے زید کا مرجانا ثابت کرنا چاہئے۔یا ولید زید کا اس مدت تک زندہ رہنا ثابت کرے کیا فتویٰ ہے؟ راقم خاکسار غلام احمد از لود بانه اقبال گنج ۲۰ / اپریل ۱۸۹۱ء نوٹ۔اس مثال سے یہ غرض ہے کہ جس پر بار ثبوت ہے اس کی طرف سے ثبوت دینے کے لئے پہلے تحریر چاہئے۔مکتوبات احمد یہ جلد ۴ صفحه ۱۶ تا ۱۹۔مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۳۲۶ تا ۳۲۹ مطبوعه ۲۰۰۸ء) مولوی محمد حسن کے ذریعہ تحریک مباحثہ مولوی محمد حسن صاحب رئیس لودہانہ فرقہ اہل حدیث سے تعلق رکھتے تھے وہ ایک شریف الطبع اور منکسر المزاج رئیس تھے مولوی محمد حسین صاحب ان ایام میں اہل حدیث کے ایڈوکیٹ کہلاتے تھے اور مولوی محمد حسن صاحب بھی اُن کا احترام کرتے تھے اور لودھانہ میں مولوی محمد حسین صاحب کا قیام اُن ہی کے مکان پر ہوتا تھا جہاں تک میرا علم ہے وہ حضرت اقدس کا بھی ادب کرتے تھے۔حضرت اقدس نے جب دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بجز غیر ضروری خط و کتابت اور لاف و گزاف کے اصل مطلب کی طرف نہیں آتے تو بالآ خر ان کو لکھا۔