حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 128
حیات احمد ۱۲۸ اب یہ بھی یادر ہے کہ آپ کی دوسری سب بحثیں مسیح کے زندہ مع الجسد اٹھائے جانے کی فرع ہیں۔اگر آپ یہ ثابت کر دیں گے کہ مسیح زندہ بجسده العنصری آسمان کی طرف اٹھایا گیا تو پھر آپ نے سب کچھ ثابت کر دیا۔غرض پہلے تحریر کرنا آپ کا حق ہے اگر اب بھی آپ مانتے نہیں تو چند غیر قوموں کے آدمیوں کو منصف مقرر کر کے دیکھ لو۔اور اخویم حکیم مولوی نورالدین صاحب کب آپ کے بلائے لاہور میں گئے تھے جنہوں نے بلایا انہوں نے مولوی صاحب موصوف سے اپنی پوری تسلی کرالی۔اور آپ کے ان لغو اصولوں سے بیزاری ظاہر کی تو پھر اگر مولوی صاحب آپ سے اعراض نہ کرتے تو اور کیا کرتے۔اعراض کا نام آپ نے فرار رکھا۔اس لئے خدائے تعالیٰ نے دست بدست آپ کو دکھا دیا کہ فرار کس سے ظہور میں آیا یہ مولوی صاحب کی راست بازی کی کرامت ہے جس نے آپ پر یہ مصرعہ سچا کر دیا۔ع مرا خواندی و خود بدام آمدی قولۀ۔اگر آپ میری اس شرط کو قبول نہ کریں اور مباحثہ سے پہلے ازالہ اوہام بھیج نہ سکیں تو میں اس شرط کی تسلیم سے آپ کو بری کرتا ہوں۔بشرطیکہ پہلے تحریرات آپ کی ہوں اور بعد میں میری۔اقول۔حضرت آپ ازالہ اوہام کے اکثر اوراق دیکھ چکے اب مجھے کس شرط سے بری کرتے ہو۔اور میں ابھی ثابت کر چکا ہوں کہ پہلے تحریر کرنا آپ کا ذمہ ہے۔اب دیکھئے یہ آپ کا آخری ہتھیار بھی خطا گیا۔عنقریب یہ آپ کا خط بھی بذریعہ اخبارات پبلک کے سامنے پیش کیا جاوے گا تا لوگ دیکھ لیں کہ آپ کی تحریرات میں کہاں تک راستی اور حق پسندی اور حق طلبی ہے۔جلد سوم