حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 10 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 10

حیات احمد جلد سوم قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ۱۶۳) کبد و میری نماز میری قربانی میری زندگی اور راحت اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ان مخصوص واقعات میں سے مثلاً ہوشیار پور اور لودہانہ کے سفر اللہ تعالیٰ ہی کے اشارہ پر کئے گئے اور بشارت ملی کی تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لو ہانہ کا سفر ہے ) تیرے لئے مبارک کر دیا اور ان برکات کا اظہار ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء کے اعلان سے ہوتا ہے وہ اشتہا ر سلسلہ کے لئے بطور بنیادی چیز کے ہے۔اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سلسلہ کی بنیاد اس اشتہار سے شروع ہوتی ہے۔سلسلہ کی بنیاد گوحقیقتا اس وقت پڑی جب کہ ۶۵-۱۸۶۴ء میں آپ نے ایک رؤیا دیکھی جو یہ ہے۔حضرت مسیح موعود کو رڈیا کے ذریعہ براہین احمدیہ کی بشارت وو اس احقر نے ۱۸۶۴ء یا ۱۸۶۵ ء میں یعنی اس زمانہ کے قریب کہ جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصے میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا۔جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلّم کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے ؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے جس نام کی تعبیر اب اس اشتہار کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔غرض آنحضرت نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ حضرت مقدس نبوی نوٹ۔حضرت اقدس نے یہ زمانہ تخمینا لکھا ہے دراصل یہ اس سے پہلے کی رؤیا ہے اس لئے کہ ایام طالب علمی کا ذکر ہے اور ۱۸۶۵،۶۴ء میں تو آپ سیالکوٹ چلے گئے تھے۔عرفانی الکبیر