حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 124 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 124

حیات احمد ۱۲۴ جلد سوم لکھا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں اور نیز یہ کہ حضرت مسیح ابن مریم در حقیقت وفات پاگئے ہیں۔پھر اس رڈ کے رڈالرڈ کے لئے میری طرف سے تحریر ہو گی۔غرض پہلے آپ کا یہ حق ہوگا کہ جو کچھ ان دعاوی کے بطلان کے لئے آپ کے پاس ذخیرہ نصوص قرآنیہ و حدیثیہ موجود ہے وہ آپ پیش کریں پھر جس طرح خدا تعالیٰ چاہے گا یہ عاجز اس کا جواب دے گا اور بغیر اس طریق کے جس کی انصاف پر بنا اور نیز امن رہنے کیلئے احسن انتظام ہے اور کوئی طریق اس عاجز کو منظور نہیں اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو پھر ہماری طرف سے یہ آخری تحریر تصور فرما دیں اور خود بھی خط لکھنے کی تکلیف روا نہ رکھیں اور بحالت انکار ہر گز کوئی تحریر یا کوئی خط میری طرف نہ لکھیں اگر پوری اور کامل طور پر بلا کم و بیش میری رائے ہی منظور ہو تو صرف اس حالت میں جواب تحریر فرماویں ور نہ نہیں۔صاحب آج بھوپال سے ایک کارڈ مرقومہ ۹/ اپریل ۱۸۹۱ء اخویم مولوی محمد احسن ب مہتم مصارف ریاست پڑھ کر آپ کے اخلاق کریمانہ اور مہذبانہ تحریر کا نمونہ معلوم ہو گیا۔آپ اپنے کارڈ میں فرماتے ہیں کہ میں نے مرزا غلام احمد کے دعویٰ جدید کی اپنے ریویو میں تصدیق نہیں کی بلکہ اس کی تکذیب خود براہین میں موجود ہے۔آپ بلا رؤیت مرزا پر ایمان لے آئے آپ ذرا ایک دفعہ آکر اس کو دیکھ تو لیں تَسْمَعْ بِالْمُعَيْدِى خَيْرٌ مِّنْ اَنْ تَرَاهُ اشاعۃ السنہ میں اب ثابت ہوتا رہے گا کہ یہ شخص ملہم نہیں ہے فقط۔حضرت مولوی صاحب من آنم کہ من دانم آپ جہاں تک ممکن ہے ایسے الفاظ استعمال کیجیئے میں کیا ہوں اور میری شان کیا۔بیشک آپ جو چاہیں لکھیں اور اس وعدہ تہذیب کی پرواہ نہ رکھیں جس کو آپ چھاپ چکے ہیں۔ربّى يَسْمَعُ وَ يَرَى وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى خاکسار غلام احمد