حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 123 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 123

حیات احمد ۱۲۳ انہوں نے ہی رخصت کیا آپ کا تو درمیان قدم ہی نہ تھا پھر آپکا یہ جوش جو تار کے فقرات سے ظاہر ہوتا ہے کس قدر بے محل ہے۔آپ خود انصاف فرما دیں جب کہ اُن سب لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ اب ہم مولوی محمد حسین صاحب کو بلا نا نہیں چاہتے ہماری تسلی ہوگئی اور وہی تو تھے جنہوں نے مولوی صاحب کو لدھیانہ سے بلایا تھا تو پھر مولوی صاحب آپ سے کیوں اجازت مانگتے ؟ کیا آپ نہیں سمجھ سکتے اور اگر آپ کی۔خواہش ہے کہ بحث ہونی چاہئے جیسا کہ آپ اپنے رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں تو یہ عاجز بسر و چشم حاضر ہے مگر تقریری بحثوں میں صد با طرح کا فتنہ ہوتا ہے صرف تحریری بحث چاہئے اور وہ یوں ہو کہ مساوی طور پر چار ورق کاغذ پر آپ جو چاہیں لکھ کر پیش کریں اور لوگوں کو با آواز بلند سنا دیں اور ایک نقل اس کی اپنے دستخط سے مجھے دے دیں پھر اس کے بعد میں بھی چار ورق پر اس کا جواب لکھوں اور لوگوں کو سنادوں ان دونوں پر چوں پر بحث ختم ہو جائے اور فریقین میں سے کوئی ایک کلمہ تک تقریری طور پر اس بحث کے بارے میں نہ کہے جو کچھ ہو تحریر میں ہوا اور پرچے صرف دو ہوں اوّل آپ کی طرف سے ایک چو ورقہ پرچہ جس میں آپ میرے مشہور کردہ دعویٰ کا قرآن کریم اور حدیث کی رو سے رڈ لکھیں اور پھر دوسرا پر چہ چو ورقہ اسی تقطیع کا میری طرف سے ہو جس میں اللہ جل شانہ کے فضل و توفیق سے رڈالر ڈلکھوں اور انہیں دونوں پر چوں پر بحث ختم ہو جائے اگر آپ کو ایسا منظور ہو تو میں لاہور میں آسکتا ہوں اور انشاء اللہ تعالیٰ امن قائم رکھنے کے لئے انتظام کرادوں گا یہی آپ کے رسالہ کا بھی جواب ہے اب اگر آپ نہ مانیں تو پھر آپ کی طرف سے گریز تصور ہوگی۔مکرر یہ کہ جس قدر ورق آپ لکھنے کے لئے پسند کر لیں اسی قدر اوراق پر لکھنے کی مجھے اجازت دی جائے لیکن یہ پہلے سے جلسہ میں تصفیہ پا جانا چاہئے کہ آپ اس قدر اوراق لکھنے کیلئے کافی سمجھتے ہیں اور آئمکرم اس بات کو خوب یاد رکھیں کہ پرچے صرف دو ہوں گے اوّل آپ کی طرف سے ان دونوں بیانات کا رڈ ہوگا جو میں نے جلد سوم